خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 121 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 121

خطبات مسرور جلد 11 121 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 فروری 2013ء حرام ہو جاتا ہے، پانی تک اُسے ہضم نہیں ہوتا، تمام جسم کی صحت کی حالت خراب ہو جاتی ہے، چل پھر بھی نہیں سکتا تو ایسی حالت میں وہ امیر آدمی اُس کی مدد نہیں کر سکتا بلکہ اگر کوئی اچھا طبیب (ڈاکٹر ہو ) اچھالائق اور رحمدل ہوتا ہے اور وہ اُسے اس حالت میں دیکھتا ہے تو کہتا ہے کہ تمہیں علاج پر روپیہ خرچ کرنے کی توفیق نہیں ، میں تمہیں مفت دوائی دینے کے لئے تیار ہوں۔فرمایا کہ اس اضطرار کی حالت میں امیر اُس کے وو کام نہیں آیا بلکہ طبیب اُس کے کام آیا۔پھر کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اُس پر کوئی مقدمہ بن جاتا ہے وہ بے گناہ ہوتا ہے، اس کا دشمن زبردست ہوتا ہے اور وہ کسی وجہ سے ناراض ہو کر کسی مقدمہ میں ماخوذ کرا کے عدالت تک پہنچاتا ہے۔اب اُسے نہ وکیل کرنے کی توفیق ہے، نہ خود اُسے مقدمہ لڑنے کی قابلیت ہے اور وہ حیران ہوتا ہے کہ کیا کرے۔آخر کوئی رحمدل وکیل اُسے مل جاتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ میں بغیر فیس کے تمہاری وکالت کرنے کے لئے تیار ہوں۔اب اس موقع پر اور کوئی کام نہیں آیا صرف وکیل اُس کے کام آیا۔پھر اسی طرح ایک زمیندار کی مثال دی ہے۔پھر آگے فرماتے ہیں کہ۔۔۔ایک ہی انسان کے مختلف اضطراروں میں مختلف لوگ اُس کے کام آ سکتے ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : آمن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ (النمل آیت : 63) - مطلق مضطر جس کے لئے کوئی شرط نہیں کہ وہ کس قسم کا مضطر ہو، خواہ وہ بھوکا ہو، نگا ہو، پیاسا ہو، بیمار ہو، بوجھ اُٹھائے جارہا ہو، کسی قسم کا اضطرار ہو، اُس کی ساری ضرورتوں کو پورا کرنے والی صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔۔کچھ حصہ میں چھوڑ رہا ہوں۔پھر فرمایا کہ ہر قسم کے مضطرین کی ضرورتیں پوری کرنے والی خدا کی ہی ذات ہوتی ہے۔انسان کے اضطرار کی ہزاروں حالتیں ہوتی ہیں۔بھلا ان حالتوں میں تو کوئی بادشاہ بھی کسی کے کام نہیں آسکتا۔فرض کرو ایک شخص سخت بیمار ہے۔اب بادشاہ کا خزانہ اُس کے کام نہیں آسکتا۔بادشاہ کی فوجیں اُس کے کام نہیں آسکتیں۔بادشاہ کا تقرب اُس کے کام نہیں آ سکتا۔اُس کے کام تو اللہ تعالیٰ ہی آسکتا ہے جو ہر قسم کی بیماریوں کو دُور کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔یا ایک جنگل میں گزرنے والا شخص جس پر بھیڑ یا یا شیر اچانک جھپٹ کر حملہ کر دیتا ہے، وہ چاہے بادشاہ کا کتنا ہی منہ چڑھا ہو یا بادشاہ کا بیٹا ہی کیوں نہ ہو، بادشاہ اُس کے کیا کام آ سکتا ہے؟ فرمایا جنگل میں وہ تن تنہا جا رہا ہوتا ہے کہ شیر چیتا یا بھیڑیا اُس کے سامنے آجاتا ہے۔ایسی حالت میں وہاں اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے جو کام آتی ہے۔کوئی انسان کام نہیں آ سکتا۔تو جب تک انسان کے اندر یہ یقین پیدا نہ ہو کہ ہر قسم کے اضطراب کی حالت میں اللہ تعالیٰ ہی کام آتا ہے اُس وقت تک وہ مضطر نہیں کہلا سکتا۔۔۔۔