خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 120 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 120

خطبات مسرور جلد 11 120 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 فروری 2013ء ایک طرف امن نظر آتا ہو اور انسان کہ سکتا ہو کہ وہاں آگ نہیں ہے۔تو وہی دعا خدا تعالیٰ کے حضور قبول کی جاتی ہے جس کے کرتے وقت بندہ اس رنگ میں اُس کے سامنے حاضر ہوتا ہے۔اُسے یقین ہوتا ہے کہ سوائے خدا کے میرے لئے اور کوئی پناہ کی جگہ نہیں۔یہی وہ مضطر کی حالت ہے جسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں ادا فرمایا ہے کہ لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَأَ مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ - كه اے خدا! لا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَأَ مِنْكَ۔تیرے عذاب اور تیری طرف سے آنے والے ابتلاؤں سے کوئی پناہ کی جگہ نہیں ، کوئی خوف کی جگہ نہیں ، سوائے اس کے کہ میں سب طرف سے مایوس ہو کر اور آنکھیں بند کر کے تیری طرف آجاؤں۔تو لا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَأَ والی جو حالت ہے، یہی اضطرار کی کیفیت ہے۔اور جب خدا نے قرآن میں کہا کہ آمنْ تُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ ( النمل آیت:63) بتاؤ مضطر کی کون سنتا ہے تو مضطر کے معنی یہی ہوئے کہ ایسے شخص کی دعا جو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو ملجا و مادی نہیں سمجھتا اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو اپنا ملا و منجاقرار نہیں دیتا اور اس آیت میں کہ امن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ (النمل آیت: 63) در حقیقت اس کیفیت اضطرار کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔مضطر کے لفظ پر یہ علمی روشنی ڈالنے اور اس آیت کی وضاحت کرنے کے بعد پھر آپ کا تقریر کا جو اسلوب تھا، طریق تھا ، آپ نے مضطر کی مختلف ضرورتوں اور حالتوں کا ذکر فرما کر مثالیں اور واقعات پیش کئے۔آپ کی ہر تقریر واقعات اور مثالوں سے بھری ہوتی تھی۔آپ فرماتے ہیں کہ : اضطرار دنیا میں کئی قسم کے ہوتے ہیں۔اس لئے یہاں المُضطر “ کا لفظ رکھا گیا ہے جس کے معنی تمام قسم کے مضطر کے ہیں۔بعض بندے دنیا میں ایسے ہوتے ہیں جو مضطر ہوتے ہیں اور گو حقیقتا اللہ تعالی ہی ہر مضطر کا علاج ہے۔مگر اُس کے دیئے ہوئے انعام کے ماتحت کوئی بندہ بھی اُن کے اضطرار کو بدلنے کی طاقت رکھتا ہے۔ایک غریب آدمی ہے، اُس کے کپڑے پھٹ جاتے ہیں، اُسے نظر نہیں آتا کہ وہ نئے کپڑے کہاں سے بنوائے۔ایک امیر آدمی جو بعض دفعہ ایک ہندو ہوتا ہے،سکھ ہوتا ہے، پارسی ہوتا ہے، دہر یہ ہوتا ہے، کوئی بھی ہو، وہ اُس کو بنوا دیتا ہے۔یہاں میں بعض باتیں مختصر کر رہا ہوں کیونکہ یہ خطبہ کافی لمبا تھا۔تو فرمایا کہ اب گو ہمارے یقین کے مطابق خدا نے ہی اس امیر آدمی کے دل میں یہ تحریک پیدا کی ہوگی کہ وہ اُسے کپڑے بنوا دے مگر جو کامل الایمان نہیں ہوتا وہ سمجھتا ہے کہ میرے اضطرار کی حالت میں فلاں آدمی کام آیا ہے۔مگر وہی آدمی جس نے اُسے کپڑوں کا جوڑا بنوا کر دیا تھا جب یہ ایسی بیماری میں مبتلا ہوتا ہے کہ اُس کے لئے کھانا پینا