خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 119
خطبات مسرور جلد 11 119 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 فروری 2013ء رفعے اور خطوط ملتے ہیں اُن سے پتہ چلتا ہے کہ جماعت کے ایک حصہ میں موجودہ زمانہ فتن کے لئے دعا کی تحریک پائی جاتی ہے۔مگر ایک حصہ کی دعا کافی نہیں۔یہاں میں یہ بھی بتا دوں کہ آج کل بھی یہی صورتحال ہے۔میرے بار بار کہنے کے باوجود دعا کی طرف توجہ دینے اور اپنی حالتوں کو بدلنے کے لئے جو توجہ ہونی چاہئے وہ نہیں ہورہی۔بہر حال پھر آپ آگے فرماتے ہیں کہ : ”ضرورت ہے کہ مردوں اور عورتوں اور بچوں سب کی ذہنیت کو دعا کے لئے بدلہ جائے اور یہ ذہنیت اس رنگ میں بدلی جاتی ہے کہ سب سے پہلے دعا پر یقین اور ایمان پیدا ہو۔جو شخص بغیر یقین کے دعامانگتا ہے اُس کی دعا خدا تعالیٰ کے حضور مقبول نہیں ہوا کرتی۔ہوسکتا ہے کبھی ایسے شخص کی دعا قبول ہو جائے صرف نمونہ کے طور پر اور اُس کے دل میں یقین پیدا کرنے کے لئے لیکن قانون کے طور پر اسی شخص کی دعا قبول ہوتی ہے جس کے دل میں یقین ہوتا ہے کہ خدا میری سنے گا۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آمَن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ (النمل آیت:63) که مضطر کی دعا کون سنتا ہے؟ اور پھر فرماتا ہے اللہ ہی سنتا ہے۔اور مضطر کے معنی عربی زبان میں یہ ہوتے ہیں کہ کسی کو چاروں طرف سے دھکے دے کر کسی طرف لے جائیں، جو چاروں طرف سے راستہ بند پا کر کسی ایک طرف جاتا ہے اُس کو مضطر کہتے ہیں۔یعنی وہ ہر طرف آگ دیکھتا ہے۔اپنے دائیں دیکھتا ہے تو اُسے آگ نظر آتی ہے۔اپنے بائیں دیکھتا ہے تو اُسے آگ نظر آتی ہے۔اپنے پیچھے دیکھتا ہے تو اُسے آگ نظر آتی ہے۔اپنے نیچے دیکھتا ہے تو اسے آگ نظر آتی ہے۔اپنے اوپر دیکھتا ہے تو اُسے آگ نظر آتی ہے۔صرف ایک جہت اُس کے سامنے خدا تعالیٰ والی باقی رہ جاتی ہے اور اسی پر اُس کی نظر پڑتی ہے اور سب جگہ اُسے آگ ہی آگ دکھائی دیتی ہے مگر صرف ایک طرف اُسے امن نظر آتا ہے۔اس سے تم سمجھ سکتے ہو کہ مضطر کے معنوں میں یقین پایا جانا ضروری ہے۔مضطر کے صرف یہی معنی نہیں ہیں کہ اُس کے دل میں گھبراہٹ ہو کیونکہ گھبراہٹ میں بعض دفعہ ایک شخص بے تحاشا کسی طرف چل پڑتا ہے بغیر اس یقین کے کہ جس طرف وہ جا رہا ہے وہاں اُسے امن بھی حاصل ہوگا یا نہیں۔بلکہ بعض لوگ گھبراہٹ میں ایسی طرف چلے جاتے ہیں جہاں خود خطرہ موجود ہوتا ہے اور وہ اس سے نہیں بچ سکتے۔پس محض اضطراب کا دل میں پیدا ہونا اضطرار پر دلالت نہیں کرتا۔اضطرار پر وہ حالت دلالت کیا کرتی ہے جب چاروں طرف کوئی پناہ کی جگہ انسان کو نظر نہ آتی ہو اور ایک طرف نظر آتی ہے۔گویا اضطرار کی نہ صرف یہ علامت ہے کہ چاروں طرف آگ نظر آتی ہو بلکہ یہ علامت بھی ہے کہ