خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 110 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 110

خطبات مسرور جلد 11 110 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 فروری 2013ء ہیں اس کے بعد پھر میں نے حضرت خلیفہ ثانی کی بیعت کر لی اور پھر میں خدا تعالیٰ کے فضل۔اخلاص و محبت میں ترقی کرتا گیا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ۔غیر مطبوعہ جلد نمبر 12 صفحہ 221 تا 227 از روایات حضرت ڈاکٹر عبدالغنی صاحب کڑک ) حضرت خیر دین صاحب فرماتے ہیں کہ جب احرار کا فتنہ بھڑکا تو خاکسار نے دیکھا کہ حضرت امیر المومنین کے ایک طرف یوسف نامی شخص لیٹا ہوا ہے اور دوسری طرف حضور کے شیر محمد لیٹا ہوا ہے۔تو اس میں جناب الہی نے یہ بتایا کہ واقع میں یہ یوسف تو ہے مگر بعض لوگ حضور کی ترقی کو دیکھ کر جل رہے ہیں۔مگر اس کے ساتھ کیونکہ غیر معمولی خدائی طاقت ہے اس لئے جلنے والے کچھ نہیں کر سکیں گے۔گویا یہ خواب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس شعر کے مطابق ہے۔یوسف تو سن چکے ہو اک چاہ میں گرا تھا یہ چاہ سے نکالے جس کی صدا یہی ہے ย (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ۔غیر مطبوعہ جلد نمبر 7 صفحہ 160 از روایات حضرت خیر دین صاحب) حضرت ڈاکٹر نعمت خان صاحب بیان کرتے ہیں۔1896ء کی ان کی بیعت ہے کہ جب خلافت ثانیہ کا وقت آیا تو میں نے بیعت کا خط حضرت امیر المومنین کی خدمت میں لکھا اور اُن دنوں میں شاید رخصت پر ریاست نادون ضلع کانگڑہ میں اپنے گھر پر تھا۔مجھے یاد پڑتا ہے کہ ان کا خط آیا۔( یعنی یہ حضرت مولوی غلام حسین صاحب پشاوری کا ذکر کر رہے ہیں کہ ان کا خط آیا۔یہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے سسر تھے لیکن انہوں نے پہلے شروع میں بیعت نہیں کی تھی بلکہ پیغامیوں کے ساتھ چلے گئے تھے۔) کہتے ہیں اُن کا مجھے خط آیا اور اُس میں بیعت فسخ کرنے کے متعلق یہ لکھا ہوا تھا کہ فسخ کر دو۔حضرت خلیفہ ثانی کی جو بیعت ہے وہ نسخ کر دو۔چونکہ میرا تعلق اُن سے بہت عرصہ رہا تھا اس لئے اصلیت کو نہ سمجھا اور میں نے فسخ بیعت کے متعلق پیغام صلح میں لکھ دیا۔اعلان ہو گیا اور اُن کے ساتھ یعنی پیغامیوں کے ساتھ میں ہو گیا۔لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ خاندانِ نبوت کے متعلق میرے وہی خیالات رہے جو پہلے تھے اور کبھی مجھ سے بے ادبی کے الفاظ نہ نکلے۔( یعنی حضرت مسیح موعود کی جو اولاد تھی حضرت خلیفۃ امسیح الثانی وغیرہ، ان کے متعلق کوئی بے ادبی کے الفاظ نہیں نکلے ) یہی حالت مدت تک رہی۔ان کے ایک دو جلسوں میں بھی شامل ہوا۔( یہ جو میں نے شروع میں ان کا یعنی مولوی غلام حسین صاحب کا ذکر کیا ہے ناں ، تو انہوں نے بیعت نہیں کی تھی لیکن 1940 ء میں انہوں نے پھر بیعت کر لی تھی اور مبائعین میں شامل ہو گئے تھے پھر قادیان ہی آ کر رہے ہیں۔)