خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 109
خطبات مسرور جلد 11 109 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 فروری 2013ء ہوں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پہلے صاف پانی آیا ہے مگر معا بعد گدلا سا پانی جس میں میل کی سی کثافت ہے، جس کو پنجابی میں پنہ اور انگریزی میں Algae کہتے ہیں، ( کائی جو کہتے ہیں، وہ پانی میں سے) نکلا ہے اور میرے ہاتھوں پر پڑ گیا جس سے میں نے خیال کیا یہ تو بڑا میلا پانی ہے اور وہ ختم بھی ہو گیا۔اس کے بعد میں نے اُسی مسجد کی طرف ( یعنی جو پہلی مسجد تھی ، جہاں بیٹھا ہوا تھا) واپسی کا ارادہ کیا اور وہ دیوار جو کہ اونچی معلوم ہوتی ہے اس پر میں چپڑھ رہا ہوں تو ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب نے میرے پیچھے سے آ کر ٹانگ پکڑ لی ہے کہ تم یہاں کیوں آئے تھے؟ پھر یہاں نہ آنا۔(غالباً یہ دوبارہ اُسی مسجد کا ذکر کر رہے ہیں جس میں ابھی وضو کر رہے تھے ) کہ تم یہاں کیوں آئے تھے؟ پھر یہاں نہ آنا۔میں کہتا ہوں کہ مجھے آنے کی ضرورت نہیں ہے۔اس کے بعد جب میں اسی مسجد کی طرف واپس گیا ہوں تو وہاں پر نہایت مصفی پانی کا ایک حوض ہے۔( یعنی جہاں بیٹھے ہوئے تھے ، وہاں واپس گئے تو مصفی پانی کا ایک حوض نظر آیا اور حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی ایک حدیث کی کتاب کا درس دے رہے ہیں جو حنائی کاغذ پر چھپی ہوئی ہے اور اُس کے حاشیوں پر بھی گنجان چھپا ہوا ہے۔میں یہ خیال کرتا ہوں کہ یہاں تو پانی کثرت کے ساتھ ہے اور میں پہلے بھولا ہی رہا۔خیر جس وقت میں وضو کر کے ہاتھ اُٹھاتا ہوں تو مستری محمد موسی صاحب کا لڑکا محمد حسین تلوار لے کر میرے سر پر کھڑا ہے اور میں خیال کرتا ہوں کہ اس کو حضرت خلیفہ ثانی کی طرف سے میرے متعلق یہ حکم ہے کہ میں منافق ہوں اور مجھے قتل کر دیا جائے۔میں نے محمد حسین صاحب کی طرف مڑ کر دیکھا کہ تم ایک مومن کو قتل کے لئے تلوار اُٹھاتے ہو۔تمہیں معلوم نہیں کہ میں مومن ہوں؟ اُس کے بعد نظارہ بدل گیا اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میں ہاتھ میں تلوار لئے ہوئے ہوں اور چھوٹے چھوٹے لڑکے سرخ اور سفید رنگ کی وردیاں پہنے ہوئے جیسا کہ مولی ہوتی ہے ماتم کر رہے ہیں اور محرم کے دن معلوم ہوتے ہیں۔میں تلوار لے کر ان لڑکوں کی طرف جاتا ہوں اور کہتا ہوں چلے جاؤ۔چنانچہ وہ لڑکے بھاگ گئے۔اُس کے بعد ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میرے لڑکے عبدالغفور خان کا مکان ہے اور میں اُس کمرے میں داخل ہونے کے لئے جب جاتا ہوں تو پولیس کے سپاہی تلاشی لینے کے لئے آتے ہیں اور میں خیال کرتا ہوں کہ میرے پاس جو تلوار بغیر لائسنس ہے، اس کی تلاشی کے لئے آئے ہیں۔مگر میں دل میں خیال کرتا ہوں کہ یہ تلوارتو میں افریقہ سے لایا ہوں۔اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔اس رؤ یا کوئیں نے شاید چند ایک دوستوں کے پاس بھی بیان کیا اور شاید مجھے مستری محمد موسیٰ صاحب نے کہا کہ کاش کہ خواب میں قتل کر دیئے جاتے تو بہت اچھا ہوتا کہ منافقت بالکل مٹ جاتی۔(اسے دیکھنے کے بعد بھی انہوں نے بیعت نہیں کی تھی ) یہ کہتے