خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 108
خطبات مسرور جلد 11 108 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 فروری 2013ء کی ملازمت مل گئی۔اُن دنوں میں پیغام بلڈنگ بہت جایا کرتا تھا اور طبیعت کا رجحان اور خیالات اہلِ پیغام کے ساتھ ہی تھے۔وہاں نماز پڑھا کرتا اور درس بھی وہیں سنا کرتا اور وقتاً فوقتاً اختلافی مسائل پر تبادلہ خیالات بھی ہوتا رہتا تھا۔جناب ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب مرحوم سے میں نے ایک دفعہ دریافت کیا کہ اس اختلاف میں کون حق بجانب ہے۔اس کے جواب میں ڈاکٹر صاحب مرحوم نے کہا کہ سمجھدار لوگ تو سب ہمارے ساتھ ہیں۔( جتنے بڑے بڑے سمجھدار ہیں وہ تو ہمارے ساتھ آگئے ہیں۔) اُنہی دنوں میں حاجی محمد موسیٰ صاحب کی دوکان پر بھی جایا کرتا تھا۔وہاں منشی محبوب عالم صاحب جو آجکل را جپوت سائیکل ورکس کے پروپرائٹر ہیں اُن سے بھی ملا کرتا تھا اور اختلافی مسائل پر گرما گرم گفتگو ہوا کرتی تھی۔منشی صاحب کچھ سخت الفاظ بھی استعمال کیا کرتے تھے مگر میں سمجھتا تھا کہ منشی صاحب سخت کلامی کرتے ہیں۔( یعنی عادت ہے، عادتاً کرتے ہیں) چنانچہ منشی صاحب نے ایک دفعہ مجھے کہا کہ تم پیغام بلڈنگ میں کیا کرنے جاتے ہو؟ میں نے کہا کہ قرآنِ مجید کا درس دینے جاتا ہوں۔( میرا خیال ہے سننے جاتا ہوں، ہونا چاہئے ) کہنے لگے روزانہ وہاں جاتے ہو آج ہمارے ساتھ بھی قرآنِ مجید سننے کے لئے چلو۔اُن دنوں نماز میاں چراغ الدین صاحب مرحوم کے مکان پر ہوا کرتی تھی اور درس بھی وہیں ہوتا تھا جو حضرت مولا نا غلام رسول صاحب راجیکی دیا کرتے تھے۔جب میں پہلی دفعہ گیا تو پارہ سَيَقُولُ “ کے پہلے ہی رکوع کا درس تھا۔( دوسرے پارے کا۔) مولانا راجیکی صاحب ایک روانی کے ساتھ مستحکم اور مدلل طور پر قرآن مجید کی تفسیر کر رہے تھے جو میں نے اس سے پیشتر کبھی نہ سنی تھی۔اُس وقت مولوی صاحب کی شکل کو جب میں نے دیکھا تو میرا خیال تھا کہ یہ شخص تو کوئی جاٹ معلوم ہوتا ہے۔اس نے کیا درس دینا ہے؟ مگر میری حیرانی کی کوئی حد نہ رہی جب میں نے دیکھا کہ مولوی صاحب سے نکات و معارف کا دریا رواں ہے۔چنانچہ میں نے منشی محبوب عالم صاحب کے پاس بھی مولوی صاحب کی تعریف کی۔اس پر انہوں نے کہا کہ تمہارے مولوی محمد علی صاحب نے بھی ان سے قرآن کا علم حاصل کیا ہے۔اُن دنوں میں کچھ تذبذب کی حالت میں تھا کہ میں نے ایک رؤیا دیکھی کہ ایک مسجد ایسی ہے جیسی کہ بٹالہ کی جامع مسجد اور اس مسجد کے عین وسط میں بیٹھے ہوئے مجھے خیال آرہا ہے کہ پانی کہیں سے لے کر وضو کر کے نماز پڑھیں۔ادھر ادھر دیکھ کر میں نے خیال کیا کہ پانی وہاں نہیں ہے۔( مسجد میں بیٹھے ہوئے یہ سوچا کہ اس مسجد میں پانی نہیں ہے۔اس لئے میں بالمقابل پانی کی تلاش میں گیا تو معلوم ایسا ہوتا ہے کہ ایک مسجد ہے جیسا کہ وہ پیغام بلڈنگ کی مسجد ہے جس میں پانی کی نلکیاں لگی ہوئی ہیں۔میں وہاں پر وضو کر نے کے لئے نلکی کھولتا