خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 107 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 107

خطبات مسرور جلد 11 107 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 فروری 2013ء تحریک ہے اور 1934 ء سے ملازمت سے برطرف ہو کر آخر 1936ء تک بوجہ خانگی کارو بارگھر پر رہا اور اب یہاں آ کر خوارج کے فتنہ کو پچشم خود دیکھا اور دعاؤں کی توفیق پائی اور فخر الدین صاحب بانی سرغنہ کے قتل کا واقعہ بھی بچشم خود دیکھا۔عطا کیں تو نے میری سب مرادات کرم سے تیرے دشمن ہو گئے مات (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ۔غیر مطبوعہ جلد نمبر 6 صفحہ 152-156 از روایات حضرت امیر محمد خان صاحب) حکیم عطا محمد صاحب جن کی بیعت 1901ء کی ہے، فرماتے ہیں کہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی بیعت کے غالباً ایک ماہ بعد حکیم احمد دین صاحب شاہدرہ سے لاہور میرے مکان پر آئے اور فرمانے لگے کہ چلو آج محمد علی صاحب سے مسئلہ نبوت پر کچھ گفتگو کرنی ہے۔میں بھی اُن کے ساتھ ہو گیا۔وہاں مسجد میں دوستانہ طور پر حکیم احمد دین صاحب اور مولوی محمد علی صاحب نے گفتگو شروع کر دی۔کوئی پندرہ بیس منٹ تک سلسلہ جاری رہا۔اس بات پر کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نبی تھے کہ نہیں تھے۔کہتے ہیں بعد میں ہم سب اپنے اپنے گھر آ گئے۔رات کو میں نے دعا کی کہ الہی ! مولوی محمدعلی نے جو بیان کیا ہے وہ کچھ سچ معلوم ہوتا ہے۔( یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نبوت کے بارے میں کچھ شبہ ڈال دیا ) میرے دل کو تو خود ہی سنبھال۔میں نے رات کو دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تیزی سے گھبرائے ہوئے آئے ہیں اور فرمایا کہ وہ دیکھو۔میں نے دیکھا کہ ایک کبوتر باز نہایت غصہ سے بھرا ہوا اُس کبوتر کی طرف دیکھ رہا ہے جو کہ دوسرے کبوتر باز کی چھتری پر جا بیٹھا ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ دیکھو! کبوتر باز کو جو کہ دوسرے کی چھتری پر جا بیٹھے، نہایت حقارت سے دیکھتے ہیں۔اس لئے تم بھی کبھی پیغام بلڈنگ میں نہ جایا کرو۔میں نے عرض کیا کہ حضرت! میں کبھی نہیں جاؤں گا۔پھر میری نیند کھل گئی اور اللہ کے فضل کا شکر یہ ادا کیا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ۔غیر مطبوعہ جلد نمبر 7 صفحہ 179 از روایات حضرت حکیم عطا محمد صاحب) ڈاکٹر عبدالغنی صاحب کڑک جنہوں نے 1907ء میں بیعت کی فرماتے ہیں کہ زمانہ گزرتا گیا اور حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات ہو گئی۔نیروبی کے تمام احمد یوں نے اُس وقت حضرت خلیفہ ثانی کی بیعت کر لی مگر میں اور محمدحسین صاحب بٹ مرحوم اور خواجہ قمر الدین صاحب مرحوم محروم رہے۔اور ہم نے بیعت نہ کی۔بعد ازاں مجھے ہندوستان جانے کا موقع ملا تو میں ملازمت سے الگ ہو گیا تھا۔لڑائی شروع ہوگئی اور میں ہندوستان میں رہا اور پھر وہیں ہندوستان میں مجھے میڈیکل کالج لاہور میں ہیڈ لیبارٹری اسسٹنٹ