خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 2 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 2

خطبات مسرور جلد 11 2 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 4 جنوری 2013ء ہے۔بارہ تیرہ سال کی عمر ہے۔اس فیملی نے چند مہینے پہلے بیعت کی تھی۔آجکل جیسا کہ دنیا کے معاشی حالات ہیں، اس وجہ سے ان کے پاس جاب بھی کوئی نہیں ہے، پڑھائی بھی ابھی ختم کی ہے۔تعلیم حاصل کرنے کے بعد فارغ ہیں، بڑی مشکل سے گزارہ کر رہے ہیں بلکہ عزیزوں سے قرض لے کر گزارہ کر رہے ہیں۔وہ خاتونِ خانہ جو اس فیملی کی بچوں کی ماں تھی ، بڑے درد سے مجھے کہنے لگیں کہ میرا دل بڑا بے چین رہتا ہے کہ کام نہ ہونے کی وجہ سے ہم چندہ پوری طرح نہیں دے سکتے۔میں نے اُس کو سمجھایا کہ آپ کے حالات کے مطابق آپ جو دے سکتی ہیں یا دیتی ہیں وہی کافی ہے۔لیکن بار بار یہی کہہ رہی تھی کہ میں کسی بھی قربانی میں اپنے آپ کو اب دوسرے احمدیوں سے پیچھے نہیں رکھ سکتی۔حالانکہ ابھی چند مہینے پہلے بیعت کی ہے۔بار بار اس کا اظہار تھا کہ بہت بے چین ہوں۔تو یہ انقلاب جو بیعت کرنے کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے والوں کی طبیعتوں میں پیدا ہو جاتا ہے، اس احساس کے بعد کسی قربانی پر احسان جتانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔بلکہ یہ بے چینی ہے کہ ہم قربانی نہیں کر رہے، یا قربانی کا وہ معیار نہیں ہے جو چاہتے ہیں۔پھر بعض دفعہ بعض افراد کے خلاف کسی وجہ سے تعزیری کارروائی ہوتی ہے۔تعزیری کارروائی میں سزا میں یہ کہا جاتا ہے کہ فلاں سے چندہ نہیں لینا۔اس پر لوگ بے چین ہو کر مجھے لکھتے ہیں کہ کوئی اور سزا دے لیں لیکن یہ سزا نہ دیں۔اول تو ہم معافی مانگتے ہیں۔جس قصور کی وجہ سے سزا ہے اُس کا مداوا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اپنی اصلاح کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔لیکن اگر سزا دینی ہی ہے تو پھر خدا کے لئے ہمیں چندے کی ادائیگی سے محروم نہ کریں کہ یہ تو ہمارا اوڑھنا بچھونا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک عجیب جماعت پیدا فرمائی ہے جسے مالی قربانی کرنے میں عجیب راحت وسکون ملتا ہے اور اس سے روکنے پر دل بے چین ہو جاتے ہیں۔پس آج روئے زمین پر کوئی اور ایسی جماعت نہیں ہے جو یہ جذبہ رکھتی ہو۔مخالفین احمدیت دعوے تو بہت کرتے ہیں لیکن یہ اظہار ان کی تقریروں میں جو وہ اپنے لوگوں میں کرتے ہیں، اکثر سننے میں آتا ہے کہ دیکھو قادیانی یا مرزائی (جو ہمیں وہ کہتے ہیں ) اپنے مقاصد کے لئے کتنی قربانی کرتے ہیں اور تمہیں ایک مسجد کے چندے کے لئے یا فلاں کام کے لئے کوئی توجہ نہیں پیدا ہوتی۔اور یہ اظہار ان غیر احمدی علماء کا ، مولویوں کا یا ان لوگوں کا تنظیموں کا ہمیں صرف پاکستان ، ہندوستان میں نظر نہیں آتا بلکہ افریقہ کے مسلمان ممالک میں بھی یہ باتیں سننے میں آتی ہیں۔اور پھر جب کچھ خرچ کر دیتے ہیں تو اظہار یہ ہوتا ہے