خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 694 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 694

خطبات مسرور جلد 11 694 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 دسمبر 2013ء سے مضامین نکالے، پھر کمپیوٹر پر دوبارہ لکھے اور کہتے ہیں پھر ہمیں بھی ارسال کئے۔مختلف کتابوں کے جو ترجمے ہو رہے ہیں ان تراجم پر نظر ثانی میں معاونت کیا کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے گہری محبت اور خلافت سے بھی عشق تھا۔یوم مسیح موعود علیہ السلام کے موقع پر نشر ہونے والے عربی پروگرام کوسن کر بہت جذباتی انداز میں انہوں نے اپنا پیغام بھیجا۔انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک قصیدہ بھی نہایت پر سوز آواز میں ریکارڈ کروایا۔یکم اپریل 2012 ء کو انہوں نے مجھے ایک خط لکھا تھا جس کے آخر پر اپنا 2006ء کا ایک رؤیا لکھا تھا۔اس رؤیا سے وہ یہ سمجھتے تھے کہ بھاری ذمہ داری اور اہم امانت اُن کے سپرد کی جائے گی اور رویا میں انہیں حق پر قائم رہنے اور کوئی کمزوری نہ دکھانے کی تاکید کی گئی تھی۔اس رؤیا کے بعد اُن کو جماعت کا صدر بنایا گیا تو سمجھے کہ شاید یہ رویا پوری ہوگئی ہے۔لیکن رویا میں حق پر قائم رہنے اور کمزوری نہ دکھاتے ہوئے جان دینے کی تلقین کی گئی تھی۔تو بظاہر یہ لگتا ہے کہ اسی حالت میں اُنہوں نے اپنی جان دی کہ دین پر قائم رہے اور اپنے ایمان میں لغزش نہیں آنے دی۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرماتا چلا جائے۔وہاں ہمارے ایک اور مبلغ انجم پرویز صاحب رہے ہیں وہ کہتے ہیں بڑی محنت، اخلاص اور دیانت داری کے ساتھ کام کرتے تھے اور کہتے تھے میں اس لئے ایسا کرتا ہوں کہ میں احمدی ہوں تا کہ لوگوں کو پتہ چلے کہ احمدی بچے، دیانتدار، محنتی اور با اخلاق ہوتے ہیں۔تبلیغ کا انہیں بڑا شوق تھا اور کام پر چونکہ تبلیغ کرنا منع ہے اس لئے کہتے تھے کہ میں احمدی اخلاق سے لوگوں کو متا ثر کرنے کی کوشش کرتا ہوں تا کہ لوگوں کو خود توجہ پیدا ہو۔وطن سے بڑی محبت کرنے والے تھے جیسا کہ اُن کے اس بیان سے بھی ظاہر ہو گیا اور اپنے دوستوں اور ہم جلیسوں کو بھی یہ سمجھایا کرتے تھے کہ وطن سے محبت کرو کیونکہ یہی صحیح اسلامی تعلیم ہے اور میں نے ان حالات پر جو خطبات دیئے ہیں، وہ خطبات بھی انہوں نے اپنے دوستوں کو سنائے اور اُن کو آمادہ کیا کہ تشدد کی زندگی ختم کرو اور پر امن شہری بن کے رہو۔لیکن بعض بدفطرت جو تھے ان کے خلاف تھے۔لگتا ہے حکومت کے انہی کارندوں نے اُن پر ظلم کیا ہے جس کی وجہ سے اُن کو یہ شہادت کا رتبہ نصیب ہوا۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرما تار ہے۔اور اللہ تعالیٰ ان کے بچوں کو بھی صبر اور حوصلہ عطا فرمائے۔ان کے والدین کو بھی صبر عطا فرمائے۔الفضل انٹرنیشنل مورخہ 3 جنوری 2014 ء تا 9 جنوری 2014ء جلد 20 شماره 53 صفحہ 5 تا8)