خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 122
خطبات مسرور جلد 11 122 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 فروری 2013ء یہ اُس زمانے کی بات ہے جب انڈیا پاکستان اکٹھے تھے اور ہندوستان پر برطانیہ کی حکومت تھی۔اُس کی ایک مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ انگریزوں کے ماتحت ہی ہندوستان میں کئی بزدل قو میں ہیں، مگر انگریز اُن کو بہادر نہیں بنا سکے۔صرف اتنا کہہ دیا کہ انہیں فوج میں بھرتی نہ کیا جائے۔گویا بجائے اس کے کہ وہ اُن کی ترقی کا باعث بنتے ، انہوں نے اُن کو اسی بزدلی کے گڑھے میں گرائے رکھا جس میں وہ پہلے گرے ہوئے تھے۔لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات کو دیکھو، اُس کے ساتھ تعلق رکھنے سے بڑے بڑے بزدل، بہادر بن۔۔۔۔۔۔66 جاتے ہیں اور بڑی بڑی غیر منظم قومیں منظم ہو جاتی ہیں فرمایا کہ خدا جن قوموں کو ترقی دیتا ہے اُن کی کایا پلٹ کر رکھ دیتا ہے اور اُن کے دل بالکل بدل جاتے ہیں۔اُن کی کمزوری اور بزدلی جاتی رہتی ہے اور اُن کے اندر ایسی طاقت اور قوت آ جاتی ہے کہ دنیا حیران رہ جاتی ہے۔اب مسلمان کی مثال دی کہ مسلمانوں کو ہی دیکھ لو۔عرب ایک ایسا ملک تھا جس کے باشندے کسی ایک بادشاہ کے ماتحت رہنا اور باقاعدہ کسی نظام کے ماتحت آنا گوارا نہیں کیا کرتے تھے بلکہ قبائل کے سردار عوام سے مشورہ لے کر کام کرتے تھے اور ہر قبیلہ اپنی اپنی جگہ آزاد سمجھا جاتا تھا مگر اُن کی اتنی حیثیت بھی نہ تھی جتنی آجکل چھوٹی سے چھوٹی ریاستوں کی ہوتی ہے۔کوئی قبیلہ ہزار افراد پر مشتمل تھا، کوئی قبیلہ دو ہزار افراد پر مشتمل تھا، کوئی قبیلہ تین ہزار افراد پر مشتمل تھا۔مکہ کی آبادی بھی اُس وقت صرف دس پندرہ ہزارتھی (جس میں کئی قبائل تھے )۔پھر اُن میں کوئی نظام نہ تھا۔اُن کے پاس کوئی خزانہ نہ تھا، کوئی سپاہی نہ تھا، کوئی ایسا محکمہ نہ تھا جس کے ماتحت با قاعدہ فوجیں رکھی جاتی ہوں اور سپاہی بھرتی کئے جاتے ہوں۔غرض وہ ایک ایسی قوم تھی جو بالکل بے راہ رو تھی۔کوئی طریقہ اور کوئی صحیح نظام اُن میں نہیں پایا جا تا تھا۔ایسی حالت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو الہ تعالیٰ نے مبعوث فرما یا مگر بہت ہی تھوڑے لوگ آپ پر ایمان لائے۔محققین کے نزدیک ساری مگی زندگی میں جولوگ مکہ میں اسلام لائے ، اُن کی تعداد سو کے قریب بنتی ہے۔غرض یہ تھوڑے سے آدمی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے۔مکہ کے لوگ اول تو خود ہی دنیاوی لحاظ سے نہایت حقیر تھے اور ان میں کوئی طاقت وقوت نہ تھی۔(گو ویسے جنگجو تھے۔اپنے قبیلہ کے رکھ رکھاؤ رکھنے والے تھے لیکن دنیاوی لحاظ سے تو کوئی طاقت نہیں تھی۔) پھر اُن کمزور لوگوں میں سے بھی ایسے لوگ اسلام میں داخل ہوئے جو مکہ والوں کی نگاہ میں بھی کمزور سمجھے جاتے تھے۔مگر پھر اللہ تعالیٰ نے اُن کے دلوں میں کتنی بہادری پیدا کر دی اور بے نظامی کی جگہ کیسی اعلیٰ درجہ کی تنظیم کا نظارہ نظر آنے لگا۔یہی مکہ کے لوگ یا عرب کے باشندے کسی کی بات ماننا گوارا نہیں کیا کرتے تھے۔یعنی اطاعت جود دنیا میں مہذب قوموں کا شعار سمجھا جاتا ہے وہ ان کے نزدیک سخت ذلت کی بات تھی۔“