خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 1
خطبات مسرور جلد دہم 1 1 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 6 جنوری 2012ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفة اسم الخامس ایدہ الہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 6 جنوری 2012 ء بمطابق 6 صلح 1391 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح مورڈن - لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ شَيْءٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ (آل عمران: 93) اس آیت کا ترجمہ ہے کہ تم کامل نیکی کو ہرگز نہیں پاسکتے جب تک کہ اپنی پسندیدہ اشیاء میں سے ( خدا تعالیٰ کی راہ میں) خرچ نہ کرو۔اور جو کوئی چیز بھی تم خرچ کرو اللہ سے یقینا خوب جانتا ہے۔پر اعلیٰ قسم کی نیکی کو بھی کہتے ہیں اور بڑ کامل نیکی کو بھی کہتے ہیں۔جیسا کہ ترجمہ میں بتایا ہے۔پس ایک حقیقی مومن جو اللہ تعالیٰ کی رضا کی تلاش میں رہتا ہے نیکیوں کے وہ معیار حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور کرنی چاہئے جو اُس کو خدا تعالیٰ کے قریب کرنے والے ہوں۔قرآنِ کریم میں جہاں اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کے لئے مختلف رنگ میں مختلف نیکیوں کا ذکر کیا گیا ہے اور اُن کی طرف توجہ دلائی گئی ہے وہاں اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال کے خرچ کو بھی اور اپنی مختلف صلاحیتوں کے خرچ کو بھی نیکی قراردیا گیا ہے۔اس آیت میں بھی خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کو بہت بڑی نیکی قرار دیا گیا ہے۔اور فرمایا کہ جس مال یا چیز سے تمہیں محبت ہے اگر وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو گے تو تب یہ بڑی نیکی ہوگی۔بیشک اللہ تعالیٰ ہر اُس نیکی کا بدلہ دیتا ہے جو خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے کی جاتی ہے لیکن بہترین جزا اُس وقت ملتی ہے جب بہترین چیز اُس کی راہ میں قربان کی جائے۔یا خدا تعالیٰ کو وہ بندہ سب سے زیادہ پسند ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے نیکیوں کے اعلیٰ معیار حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اُس کے حصول کے لئے وہ اپنی پسندیدہ ترین اور محبوب ترین چیز بھی خدا تعالیٰ کی راہ میں دینے سے گریز نہیں کرتا۔