خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 558
خطبات مسرور جلد دہم 558 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 ستمبر 2012ء لجنہ کی طرف سے عمومی طور پر تو بڑی اچھی رپورٹ ملی ہے لیکن لجنہ کی مہمان نوازی کا ایک شعبہ خاص طور پر وہ جو تبشیر کے زیر انتظام تھا اور ایک لحاظ سے یہ مرکزی تھا، اسے لوکل مقامی لجنہ کا نہیں کہا جا سکتا، اس کے متعلق مجھے رپورٹ ملی ہے کہ یہاں غلط قسم کی سختی کی گئی اور بدتمیزی کی گئی ہے جو غیر ملکی مہمانوں سے ، خاص طور پر عربوں سے کی گئی۔یہ شکایت ملی ہے کہ کھانا ڈالنے کے لئے آنے والیوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا گیا۔دعوت والے دن بھی جب تبشیر کی دعوت ہوتی ہے سنگا پور سے ایک مہمان آئی تھیں۔اُسی وقت پہنچی تھیں یا کسی اور وجہ سے اُن کے ہاتھ میں بیگ تھا، ویلر تھا تو اُن سے بدسلوکی کی گئی۔آرام سے بھی سمجھایا جا سکتا تھا۔اگر رو کنا تھا تو شریفانہ طریقے سے کہا جا سکتا تھا کہ ( ویلر ) اندر نہ لائیں یا ایک جگہ رکھ دیں۔اُن سے لے کے رکھا جا سکتا تھا۔بہر حال اس میں جلسہ سالانہ کی انتظامیہ سے زیادہ تبشیر کی انتظامیہ کا قصور ہے۔اس لئے اُن کو بھی اس بارے میں اُن لوگوں سے معافی مانگنی چاہئے اور استغفار کرنی چاہئے۔عربوں میں خاص طور پر زبان کا مسئلہ ہوتا ہے، دوسروں میں بھی ، سنگا پور، انڈونیشیا وغیرہ سے یا دوسرے ملکوں سے بھی مہمان مرد عورتیں آتی ہیں، ہر جگہ جہاں زبان کا مسئلہ ہے، وہاں بڑی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ایک یہ شکایت جو پہلے بہت زیادہ ہوتی تھی ، اس دفعہ توا کا ذ کا ہی ہے کہ جب بعض مائیں اپنے بچوں کو مین مارکی میں لے آتی ہیں تو بجائے اس کے کہ ماؤں کو روکا جائے ، ڈسپلن قائم کرنے والی عورتیں بچوں کو پکڑ کر گھسیٹ کر باہر لے جاتی ہیں۔یہ نہایت غلط طریق ہے۔تمام عمر کے لئے اس طرح بچے کو دہشت زدہ کرنے والی بات ہے۔اور پھر اسی طرح جلسوں سے متنفر کرنے والی بات ہے۔پانچ چھ سال کے بچے اگر مین مارکی میں آ بھی جائیں تو کوئی حرج نہیں ہے۔عموماً اس عمر کے بچے شور نہیں کرتے یا ماں باپ کے کہنے پر، اکا دُکا ہوں تو قابو میں آجاتے ہیں، خاص طور پر لڑکیاں تو کافی شرافت دکھاتی ہیں۔بہر حال اگر پھر بھی ان سے شور سنیں تو آرام سے ماؤں کو کہیں کہ بچے کو لے کر باہر چلی جائیں لیکن بچے پر ڈیوٹی والیوں کو کسی قسم کی سختی نہیں کرنی چاہئے۔ہر حال میں ہر جگہ ہمارے اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ ہونا چاہئے۔تمام متعلقہ شعبہ جات ان کمزوریوں کا پتہ کروائیں جو ان کے شعبوں سے متعلق تھیں اور پھر اُن کو نوٹ کریں، ریڈ بک (Red Book) میں نوٹ کریں اور آئندہ کے لئے جب جلسہ سالانہ کے انتظامات کریں تو ان چیزوں کو سامنے رکھیں کیونکہ یہ جو ذرا ذراسی بے احتیاطی ہے، اچھے بھلے کاموں پر