خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 451
خطبات مسر در جلد دہم 451 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 جولائی 2012ء اُس کے لئے جنت قریب کی جائے گی ،اُس کا شیطان جکڑا جائے گا۔پس یہ چیزیں یا روزہ رکھنا جہاں نیکیوں کے کرنے کی طرف پہلے سے بڑھ کر توجہ دلانے والا ہو گا۔وہاں اپنی برائیاں ترک کرنے کے لئے بھی ایک مومن کو توجہ دلائے گا اور اس کے لئے وہ مجاہدہ کرے گا۔ایک مومن اپنی عبادات کے معیار بھی بلند کرنے کی کوشش کرے گا۔صرف فرائض کی طرف توجہ نہیں دے گا، اُن کے ادا کرنے کی کوشش نہیں کرے گا بلکہ نوافل کی طرف بھی توجہ ہوگی اور ایک مومن پھر اُن کی ادائیگی کا بھی بھر پور حق ادا کرنے کی کوشش کرے گا۔بندوں کے حقوق ادا کرنے کی طرف بھی توجہ ہوگی۔مالی قربانیوں کی طرف بھی توجہ ہوگی۔غریبوں کا حق ادا کرنے کی طرف بھی بھر پور کوشش ہوگی تو تبھی ماہ صیام سے صحیح فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے۔مالی قربانی کے ضمن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں روایات میں آتا ہے کہ آپ تو رمضان کے علاوہ بھی سارا سال بے انتہا صدقہ اور خیرات کرتے تھے، قربانی دیتے تھے۔اور یہ قربانی اور دوسروں کی یہ مدد آپ اس طرح فرماتے تھے کہ جس کی کوئی انتہا نہیں، جس کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔لیکن رمضان کے مہینہ میں تو لگتا تھا کہ اس طرح صدقہ و خیرات ہو رہا ہے جس طرح تیز آندھی چل رہی ہو۔(صحیح بخاری کتاب الصوم باب اجود ما كان النبي اه يكون في رمضان حدیث نمبر (1902) عبادات کے معیارا اپنی انتہاؤں سے بھی اوپر نکل جاتے تھے۔ایک تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادات کی کوئی انتہا نہیں لیکن رمضان میں وہ اُن انتہاؤں سے بھی اوپر چلے جاتے تھے۔پس آپ نے ہمیں یہ فرمایا کہ یہ نہ سمجھو کہ رمضان آیا اور بغیر کچھ کئے صرف اس بات پر کہ تم نے روزہ رکھ لیا، سب کچھ پل گیا۔آپ اس طرف توجہ دلاتے ہوئے کہ تم اس سے حقیقی فیض کس طرح اُٹھا سکتے ہو؟ ایک بات تو میں نے پہلے بتائی ہے کہ ایمان کی حالت میں ہو اور اپنا محاسبہ کرنے والا ہو، اور اس بات کی طرف بھی خاص طور پر میں توجہ دلانا چاہتا ہوں۔پھر ایک روایت میں آتا ہے کہ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ جو شخص جھوٹ بولنے اور جھوٹ پر عمل کرنے سے نہیں رکھتا، اللہ تعالیٰ کو اُس کا بھوکا پیاسا رہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔یعنی ایسا روزہ پھر بے کار ہے۔(صحیح بخاری کتاب الصوم باب من لم يدع قول الزور والعمل به في الصوم حدیث نمبر 1903) پس ہمیں اس بات پر خوش نہیں ہو جانا چاہئے کہ شیطان جکڑا گیا بلکہ روزوں کے معیار بلند کر نیکی بھی ضرورت ہے۔روزوں کا حق ادا کرنے کی بھی ضرورت ہے۔اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو