خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 398 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 398

خطبات مسر در جلد دہم 398 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 جون 2012ء ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر کامل اطاعت کا عہد کیا ہے۔پاک تبدیلیاں پیدا کرنے اور تقویٰ پر قائم رہنے کا تجدید عہد کیا ہے۔اسے ہمیں ہمیشہ اپنے سامنے رکھنا چاہئے، ورنہ نہ ہم عہد بیعت نبھانے والے ہیں اور نہ ہی ہم جلسہ کی برکات سے فیض اٹھانے والے ہیں۔جلسے ہوتے ہیں تو آپ ترانے اور نظمیں پڑھتے ہیں، ایم ٹی اے پر اس کو دکھانے کی وجہ سے اس میں رنگینیاں پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔بڑے زور شور سے برکتوں کے دن آنے کے ترانے گائے جاتے ہیں۔پس برکتوں کے دن سے فائدہ اُٹھانے کے لئے تقویٰ کا حصول ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول کی تعلیم کی کامل پیروی کی ضرورت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے عہد بیعت نبھانا ضروری ہے ورنہ دن بیشک برکتوں کے ہوں ہم ان برکتوں سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ یہ کوئی دنیاوی میلہ نہیں ہے جہاں تم آئے ہو جو دنیاوی فائدہ اُٹھانا تھا تم نے اُٹھا لیا اور چلے گئے۔بلکہ اس کی حقیقی برکات سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کرو۔(ماخوذ از شہادة القرآن روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 395) اور اس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہم سے کیا چاہتے ہیں، اس بارے میں میں آپ کی چند باتیں آپ لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ہر بات بلکہ ہر ہر بات وہ ہے جس پر عمل کرنے والے باخدا انسان بن سکتے ہیں اور یہی آپ کی بعثت کا مقصد تھا کہ اپنے آقا و مطاع حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے انسانوں کو باخدا انسان بنا ئیں۔پس سب سے پہلے تو میں آپ کے الفاظ میں آپ کا مقام اور اُس کی اہمیت اور آپ کی کامل اطاعت کے بارے میں بیان کرتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں: ” تم نے میرے ہاتھ پر جو بیعت کی ہے اور مجھے مسیح موعود حكم عزل مانا ہے تو اس ماننے کے بعد میرے کسی فیصلہ یا فعل پر اگر دل میں کوئی کدورت یا رنج آتا ہے تو اپنے ایمان کا فکر کرو۔وہ ایمان جو خدشات اور توہمات سے بھرا ہوا ہے کوئی نتیجہ پیدا کرنے والا نہیں ہوگا۔لیکن اگر تم نے سچے دل سے تسلیم کر لیا ہے کہ مسیح موعود واقعی حکم ہے تو پھر اس کے حکم اور فعل کے سامنے اپنے ہتھیار ڈال دو اور اس کے فیصلوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھو تا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک باتوں کی عزت اور عظمت کرنے والے ٹھہرو۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کافی ہے۔وہ تسلی دیتے ہیں کہ وہ تمہارا امام ہوگا۔وہ حگم عدل ہوگا۔( ملفوظات جلد 2 صفحہ 52 ایڈیشن 2003 ء مطبوعہ ربوہ )