خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 29 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 29

خطبات مسرور جلد دہم 29 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 جنوری 2012ء گر نباید بدوست راه بردن شرط عشق است در طلب مُردن ( که اگر دوست تک پہنچنا ممکن نہ ہو تو عشق کی بنیادی شرط اُس کی طلب میں ، خواہش میں مرنا ہے۔اُس کو پانے کے لئے، اُس کی طلب میں، خواہش میں مرنا یہ بنیادی شرط ہے۔) فرماتے ہیں کہ مرض دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک مرض مستوی اور ایک مرض مختلف۔“ ( دو قسم کے مرض ہیں ایک بیماری کا نام مستوی اور ایک مختلف۔یہ نام نہیں بلکہ قسم ہے۔بیماریاں دو قسم کی ہوتی ہیں ایک مرض مستوی کہلاتا ہے، ایک مختلف )۔مرض مستوی وہ ہوتا ہے جس کا درد وغیرہ محسوس ہوتا ہے۔اُس کے علاج کا تو انسان فکر کرتا ہے اور مرض مختلف کی چنداں پرواہ نہیں کرتا۔( بعض چھپے ہوئے مرض ہوتے ہیں جن کا احساس نہیں ہوتا اُن کی پرواہ نہیں کرتا۔اسی طرح سے بعض گناہ تو محسوس ہوتے ہیں اور بعض ایسے ہوتے ہیں کہ انسان اُن کو محسوس بھی نہیں کرتا۔اس لئے ضرورت ہے کہ ہر وقت انسان خدا تعالیٰ سے استغفار کرتا رہے۔۔۔۔۔۔خدا تعالیٰ نے تو اصلاح کے لئے قرآن شریف بھیجا ہے۔اگر پھونک مار کر اصلاح کر دینا خدا تعالیٰ کا قانون ہوتا تو پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ برس تک مکہ میں کیوں تکلیفیں اُٹھاتے۔ابوجہل وغیرہ پر اثر کیوں نہ ڈال دیتے ؟ ( دعا سے فوراً اثر ہو جاتا)۔”ابو جہل کو جانے دو۔ابوطالب کو تو آپ سے بھی محبت تھی (یعنی ابو طالب سے آپ کو محبت تھی لیکن اُس کے باوجود مسلمان نہیں ہوئے۔) ” غرض بے صبری اچھی نہیں ہوتی، اس کا نتیجہ ہلاکت تک پہنچاتا ہے۔“ (ملفوظات جلد اول صفحہ 528-529ایڈیشن 2003 مطبوع در بوه ) ایک مرتبہ آپ کی مجلس میں ایک شخص نے قرض کے متعلق دعا کی درخواست کی کہ میرا قرض بہت چڑھ گیا ہے۔آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ استغفار بہت پڑھا کرو۔انسان کے واسطے عموں سے سُبک ہونے کے واسطے یہ طریق ہے (غموں سے بچنے کے لئے، اُن کو دُور کرنے کے لئے یہ طریق ہے کہ استغفار پڑھو۔یعنی غموں کو ہلکا اور کم کرنے کے لئے استغفار کرنا چاہئے۔پھر فرمایا) استغفار کلید ترقیات ہے۔یعنی تمہاری ترقیات کی چابی استغفار میں ہے۔(ملفوظات جلد اول صفحہ 442 ایڈیشن 2003، مطبوعہ ربوہ ) پس یہ یادرکھنا چاہئے کہ یہ استغفار ترقیات کے دروازے تب کھولے گی ، وہ تالے تب کھلیں گے جب ویسی استغفار ہو جس کا پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ کس طرح انسان کو خالص ہوکر اللہ تعالیٰ کے حضور جھکنا چاہئے۔ایک شخص کے یہ کہنے پر کہ میرے لئے دعا کریں میرے اولاد ہو جائے۔آپ نے فرمایا کہ: استغفار بہت کرو۔اس سے گناہ بھی معاف ہو جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اولا د بھی دے دیتا ہے۔یادرکھو یقین بڑی چیز ہے۔“ (یعنی جب استغفار کر رہے ہو تو خدا تعالیٰ پر کامل یقین بھی ہونا چاہئے۔) ” جو شخص یقین