خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 236
خطبات مسر در جلد دہم 236 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 اپریل 2012 ء کے معلوم ہونے پر تائب ہو جائے۔اس لئے اللہ کو درخواست کی کہ تیرے حضور، تیری درگاہ سے یہ چاہتا ہوں کہ حضور اُن کو کوئی ایسا نشان دکھا ئیں جو ان کے لئے عبرت کا تو باعث ہو لیکن اس میں اُن کے لئے کوئی سزا مقدر نہ رکھی جائے۔( عبرت بھی ہو لیکن سزا بھی نہ ہو یہ شرط رکھی۔) تو خدا تعالیٰ نے اُس کو یہ نشان دکھایا کہ ریل میں سفر کرتے اُن کا ڈیڑھ دو ماہ کا بچہ کئی دفعہ اپنی ماں کی گود سے گرا اور گر کر اُچھلا اور گاڑی کے فرش پر بھی گرا لیکن چوٹ سے محفوظ رہا۔جب انہوں نے اس حادثے کا اپنے سفر سے واپسی پر احباب میں ذکر کیا تو میں نے اُن کو بتایا کہ آپ کے اُس دن کے واقعہ کے بعد میں نے دعا کی تھی کہ آپ کو کوئی ایسا نشان دکھایا جائے جس میں آپ مضرت سے محفوظ رہیں۔یعنی کہ اُس کے نقصان سے محفوظ رہیں۔اس دعا کے مطابق خدائے کریم نے آپ کو نشان دکھا تو دیا ہے اس کی قدر فرمائیں۔لیکن انہوں نے شوخی سے جواب دیا کہ یہ اتفاق ہے۔میں کسی نشان کا قائل نہیں ہوں۔چونکہ اس نشان سے انہوں نے فائدہ نہ اُٹھایا۔خدا نے اُن کو پھر اپنی گرفت میں لے لیا۔وہ بخار میں اچانک مبتلا ہو گئے اور اسی بخار سے مر گئے لیکن مرنے سے پہلے اُن کو واضح ہو گیا کہ یہ سزا اُن کو اُن کی بدزبانی کی وجہ سے ملی ہے۔اس لئے اپنی خطرناک حالت میں انہوں نے مجھے بار بار بلایا اور میرے جانے پر وہ کہنے لگے کہ آخر آپ نے میری شکایت کر دی۔حالانکہ آپ نے کہا تھا کہ میں شکایت نہیں کروں گا۔لیکن مجھے اپنی غلطی کا پتہ لگ گیا ہے اور اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ آپ ہی سچے تھے اور میں جھوٹا تھا۔(کم از کم یہ شرافت تو مرتے مرتے انہوں نے دکھائی۔) (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ رجسٹر نمبر 11 صفحہ 156 ر) حضرت حافظ مبارک احمد صاحب لیکچرر جامعہ احمدیہ قادیان حضرت حافظ روشن علی صاحب کے الفاظ میں روایت بیان کرتے ہیں کہ مولوی خان ملک صاحب اپنی شہرت کے لحاظ سے تمام پنجاب بلکہ ہندوستان میں بھی مشہور تھے اور اکثر علماء اُن کے شاگرد تھے لیکن باوجود اس عزت اور شہرت کے نہایت سادہ مزاج اور صوفی منش تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق کوئی سخت لفظ نہیں سن سکتے تھے۔چنانچہ ایک دفعہ جلال پور شریف والے پیر مظفر شاہ صاحب نے اُن کو اپنے صاحبزادوں کی تعلیم کے لئے بلا یا لیکن انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی شان میں ایک سخت کلمہ کہا۔اس پر آپ نے فرمایا کہ میں آپ کے بچوں کو پڑھانے کے لئے تیار نہیں۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ رجسٹر نمبر 11 صفحہ 169) حضرت منشی امام الدین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے جب