خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 231 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 231

خطبات مسرور جلد و هم 231 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 اپریل 2012 ء چوہدری صاحب مرحوم اشتہار چسپاں کرتے تھے۔مخالفین اُس کو پھاڑ دیتے تھے۔گالیاں نکالتے تھے۔کہتے ہیں کہ اُن دنوں کا واقعہ ہے۔جن مکانات میں حضور علیہ السلام قیام فرما تھے اس کے پاس گول سڑک پر درخت لگے ہوتے تھے ٹاہلیوں کے شیشم کے۔ایک مولوی مخالف جسے مولوی ٹاہلی کے نام سے پکارتے تھے،صرف پاجامہ ہی اُس نے پہنا ہوا تھا، نہ گلے میں اور نہ سر پر کوئی کپڑا ہوتا تھا۔بدحواس گالیاں دیتا رہتا تھا اور درختوں پر چڑھ کر یہ بیہودہ بکواس کرتارہتا تھا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 3 صفحہ 171) پھر حضرت حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی کی روایت ہے۔وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے۔وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میں قادیان پہنچا۔وہاں پہنچ کر اپنے مقدمات کا ذکر کیا کہ مخالفین نے جھوٹے مقدمات کر کے اور جھوٹیاں قسمیں کھا کھا کر میرا مکان چھین لیا ہے۔حضور نے فرمایا کہ حافظ صاحب ! لوگ لڑکوں کی شادی اور ختنہ پر مکان برباد کر دیتے ہیں۔آپ کا مکان اگر خدا کے لئے گیا ہے تو جانے دیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو اور اس سے بہتر دے دے گا۔“ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی قسم ! یہ پاک الفاظ سنتے ہی میرے دل سے وہ خیال ہی جاتا رہا بلکہ میرے دل میں وہ زلیخا کا شعر یاد آیا جمادی چند دادم جان خریدم بحمد الله عجب ارزان خریدم یہ مشہور ہے کہ زلیخا نے مصر کے خزانے دے کر یوسف علیہ السلام کو خریدا تھا۔اُس وقت کہا تھا کہ چند پتھر دیئے ہیں اور جان خرید لی ہے، اللہ کا شکر ہے کہ بہت ہی سستا سودا خریدا ہے۔کہتے ہیں میں بھی اللہ کا شکر کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو اس مقدس بستی قادیان میں جگہ دی اور نتیجہ یہ ہوا کہ وہیں آگئے اور مکان اُس سے کئی درجہ بہتر دیا۔بیوی بھی دی اور اولاد بھی دی۔کہتے ہیں اسی ضمن میں ایک اور بات بھی یاد آئی ہے۔لکھ دیتا ہوں کہ شاید کوئی سعید الفطرت فائدہ اُٹھائے۔وہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد ایک دن مسجد مبارک میں خواجہ کمال الدین صاحب نے کہا کہ مدرسہ احمدیہ میں جو لوگ پڑھتے ہیں وہ ملاں بنیں گے، وہ کیا کر سکتے ہیں۔تبلیغ کرنا ہمارا کام ہے۔مدرسہ احمد یہ اُٹھا دینا چاہئے، ختم کر دینا چاہئے۔اُس وقت حضرت محمود اولو العزم ( یعنی حضرت مرزا محمود احمد خلیفہ اسیح الثانی " بیٹھے تھے ) وہ کھڑے ہو گئے اور اپنی اس اولوالعزمی کا اظہار فر ما یا اس سکول کو یعنی مدرسہ احمدیہ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے قائم فرمایا ہے یہ جاری رہے گا اور انشاء اللہ اس میں علماء پیدا ہوں گے اور تبلیغ حق کریں گے۔یہ سنتے ہی خواجہ صاحب تو مبہوت ہو گئے اور میں اُس وقت یہ خیال کرتا تھا کہ خواجہ صاحب کو یقین ہو گیا ہے کہ ہم اپنے مطلب میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے اور دیکھنے والے اب جانتے ہیں کہ اسی سکول کے