خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 221
خطبات مسر در جلد دہم 221 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 6 اپریل 2012 ء قسم کی مصیبت اور دکھ میں ان کا رجوع خدا تعالیٰ ہی کی طرف ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ کے انعامات انہی کو ملتے ہیں جو استقامت اختیار کرتے ہیں۔خوشی کے ایام اگر چہ دیکھنے کو لذیذ ہوتے ہیں مگر انجام کچھ نہیں ہوتا۔رنگ رلیوں میں رہنے سے آخر خدا کا رشتہ ٹوٹ جاتا ہے۔خدا کی محبت یہی ہے کہ ابتلا میں ڈالتا ہے اور اس سے اپنے بندے کی عظمت کو ظاہر کرتا ہے۔مثلاً کسری اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی گرفتاری کا حکم نہ دیتا تو وہ معجزہ کہ وہ اسی رات مارا گیا کیسے ظاہر ہوتا۔اور اگر مکہ والے لوگ آپ کو نہ نکالتے تو فتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا (الفتح:2)‘ کی آواز کیسے سنائی دیتی۔ہر ایک معجزہ ابتلا سے وابستہ ہے۔غفلت اور عیاشی کی زندگی کو خدا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔کامیابی پر کامیابی ہو تو تضرع اور ابتہال کا رشتہ تو بالکل رہتا ہی نہیں ہے۔حالانکہ خدا تعالیٰ اسی کو پسند کرتا ہے۔اس لیے ضرور ہے کہ دردناک حالتیں پیدا ہوں۔“ ( ملفوظات جلد نمبر 3 صفحہ 586-587 ایڈیشن 2003، مطبوعہ ربوہ) اللہ تعالیٰ ہم سب کے ایمان میں ترقی عطا فرمائے اور عطا فر ما تا چلا جائے اور ہمیں فتح اور نصرت کے نظارے بھی جلد دکھائے۔ان قربانیوں کو قبول فرمائے اور شہید مرحوم کے بھی درجات بلند سے بلند تر فرماتا چلا جائے۔جمعہ کی نماز کے بعد میں انشاء اللہ تعالیٰ شہید کا جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا۔ان کے مختصر کوائف بھی بیان کر دیتا ہوں۔ان کے والد کا نام میاں مبارک احمد صاحب ہے۔ان کا تعلق سیالکوٹ سے ہے۔ان کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ آپ کے پڑدادا مکرم میاں احمد یا ر صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ذریعے ہوا جو فیروز والا ، گوجرانوالہ کے رہنے والے تھے۔انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر بیعت کی اور صحابی کہلائے۔اسی طرح آپ کی پڑدادی محترمہ مہتاب بی بی صاحبہ رضی اللہ عنہا بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحابیہ تھیں۔ماسٹر عبدالقدوس صاحب شہید 1968ء میں پیدا ہوئے۔پیدائشی احمدی تھے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔شہادت کے وقت آپ کی عمر 43 سال تھی۔آپ نے ایف اے تک تعلیم حاصل کی۔پھر پی ٹی سی کا کورس کیا اور ٹیچر لگ گئے۔ماسٹر صاحب شہید کی شادی 1997ء میں روبینہ قدوس صاحبہ بنت مکرم ماسٹر بشارت احمد صاحب امیر پارک گوجرانوالہ سے ہوئی۔جیسا کہ میں نے بتایا کہ آپ سکول ٹیچر تھے۔تقریباً بیس سال کی سروس تھی۔گورنمنٹ سکول ٹیچر تھے لیکن ربوہ میں ہی دار الصدر شمالی میں پڑھاتے رہے۔آپ کے ساتھی اساتذہ کے مطابق آپ کا شمار نہایت محنتی اور دیانتدار اساتذہ میں ہوتا تھا۔محلہ نصرت آباد میں رہائش سے قبل محلہ دارالرحمت شرقی میں رہائش پذیر