خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 196 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 196

خطبات مسرور جلد دہم 196 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 مارچ 2012ء ”ہمارے مذہب کا خلاصہ ( کہ ہمارا عقیدہ کیا ہے؟ اس میں عقیدے کی بھی وضاحت ہو جائے گی اور اس عقیدے کے ساتھ جو ہمارے عمل وابستہ ہیں اُن کی بھی وضاحت ہو جاتی ہے۔) فرماتے ہیں ”ہمارے مذہب کا خلاصہ اور آپ کباب یہ ہے کہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ۔ہمارا اعتقاد جو ہم اس دنیوی زندگی میں رکھتے ہیں جس کے ساتھ ہم بفضل و توفیق باری تعالیٰ اس عالم گزران سے کوچ کریں گے یہ ہے کہ حضرت سیدنا و مولانا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین وخیر المرسلین ہیں جن کے ہاتھ سے اکمال دین ہو چکا اور وہ نعمت بمرتبہ اتمام پہنچ چکی جس کے ذریعہ سے انسان راہ راست کو اختیار کر کے خدا تعالیٰ تک پہنچ سکتا ہے۔اور ہم پختہ یقین کے ساتھ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ قرآن شریف خاتم کتب سماوی ہے اور ایک شعشہ یا نقطہ اس کی شرائع اور حدود اور احکام اور اوامر سے زیادہ نہیں ہوسکتا اور نہ کم ہوسکتا ہے۔اور اب کوئی ایسی وحی یا ایسا الہام منجانب اللہ نہیں ہوسکتا جو احکام فرقانی کی ترمیم یا تنسیخ یا کسی ایک حکم کے تبدیل یا تغییر کر سکتا ہو۔اگر کوئی ایسا خیال کرے تو وہ ہمارے نزدیک جماعت مومنین سے خارج اور ملحد اور کافر ہے۔اور ہمارا اس بات پر بھی ایمان ہے کہ ادنی درجہ صراط مستقیم کا بھی بغیر اتباع ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہرگز انسان کو حاصل نہیں ہو سکتا چہ جائیکہ راہ راست کے اعلیٰ مدارج بجز اقتدا اس امام الرسل کے حاصل ہو سکیں۔کوئی مرتبہ شرف و کمال کا اور کوئی مقام عزت اور قرب کا بجز سچی اور کامل متابعت اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم ہرگز حاصل کر ہی نہیں سکتے۔ہمیں جو کچھ ملتا ہے لی اور طفیلی طور پر ملتا ہے۔اور ہم اس بات پر بھی ایمان رکھتے ہیں کہ جور استباز اور کامل لوگ شرف صحبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرف ہوکر تکمیل منازل سلوک کر چکے ہیں اُن کے کمالات کی نسبت بھی ہمارے کمالات اگر ہمیں حاصل ہوں بطور ظل کے واقع ہیں اور اُن میں بعض ایسے عجز کی فضائل ہیں جو اب ہمیں کسی طرح سے حاصل نہیں ہو سکتے۔(ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 169-170 ) یعنی وہ لوگ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے ہیں اُن کے بعض فضائل ایسے ہیں جواب نہیں مل سکتے۔انہوں نے دیکھا ، وہ آپ کی صحبت میں رہے۔پھر آپ فرماتے ہیں : جن پانچ چیزوں پر اسلام کی بناء رکھی گئی ہے وہ ہمارا عقیدہ ہے۔اور جس خدا کی کلام یعنی قرآن کو پنجہ مار نا حکم ہے ہم اس کو پنجہ مار رہے ہیں۔اور فاروق رضی اللہ عنہ کی طرح ہماری زبان پر ” حَسْبُنَا کتاب اللہ “ ہے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرح اختلاف اور تناقض کے وقت جب حدیث اور