خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 172
خطبات مسرور جلد دہم اور فعل میں پوری مطابقت تھی۔“ 172 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 مارچ 2012ء ( ملفوظات جلد اوّل صفحه 67-68 - مطبوعہ لندن) پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کی صحیح پیروی کی کوشش ہمارا ایک فرض بھی ہے اور وہ تبھی ہوگی جب ہمارے قول و فعل ایک ہوں گے اور تبھی ہماری کوششوں کو بھی انشاء اللہ تعالیٰ بہترین پھل لگیں گے۔اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس خواہش کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے کہ ہم دین کی اشاعت کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔لوگوں کو سیدھا راستہ دکھانے والے بنیں۔آپ کے اعضاء ہونے کا حق ادا کرنے والے بنیں۔اور ہمارے قول اور فعل میں کبھی تضاد نہ ہو۔کبھی دجالی طاقتوں اور دنیاوی علم سے مرعوب اور مغلوب نہ ہوں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس بنیادی چیز کو، اس اصل کو سمجھنے کی تو فیق عطا فرمائے۔آج پھر میں ایک جنازہ غائب پڑھاؤں گا جو مکرم سلطان آف آگادیس (Agadez) نائیجر کا ہے۔21 فروری کو پچپتر سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی ہے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔ان کا نام الحاج عمر ابراہیم تھا۔ستمبر 2002ء میں ان کو احمدیت قبول کرنے کی توفیق ملی۔یہ نائیجر کے سب سے بڑے سلطان تھے اور نائیجر کے تمام روایتی حکمرانوں یا Traditional Rulars جو ہیں اُن کے پریزیڈنٹ تھے اور صدر مملکت کی خصوصی کا بینہ کے چار افراد میں شامل تھے۔نائیجر میں پندرھویں صدی سے آگا دیس کی سلطنت کا آغاز ہوا۔مرحوم 1960 ء سے آگا دیس کے سلطان منتخب ہوئے اور اکاونویں (51 ویں) سلطان تھے۔اس طرح تقریباً اکاون باون سال یہ سلطان رہے۔نائیجر میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔آگادیس کے علاقے میں جہاں شورشیں اُٹھتی رہتی تھیں وہاں امن کے قیام میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔گویا امن کا نشان تھے۔2002ء میں جلسہ سالانہ بین میں اپنے بارہ رکنی وفد کے ساتھ کوئی ڈھائی ہزار کلومیٹر کا سفر طے کر کے شامل ہوئے تھے اور جلسے کے بعد ایک ہفتہ بینن میں مقیم رہے۔اور امیر صاحب بینن کے ساتھ مختلف جماعتوں میں گئے۔احمدیت کو قریب سے دیکھا۔نائیجر واپسی سے قبل اس خواہش کا اظہار کیا کہ میں بیعت کر کے واپس جانا چاہتا ہوں۔چنانچہ اپنے بارہ رکنی وفد کے ساتھ بیعت کر کے احمدیت میں شامل ہوئے اور کہا کہ بینن کے جلسے میں ہزاروں افراد کو نماز پڑھتے دیکھ کر میرا دل خوشی سے اچھل رہا ہے۔ہم مسلمان ملک سے آئے ہیں مگر وہاں کبھی بھی اس قدر بڑا اجتماع خالصتہ اللہ ہوتے نہیں دیکھا۔2003ء میں جلسہ سالانہ یو کے میں شریک ہوئے اور ان کی مجھ سے پہلی ملاقات تھی۔بڑے خوش اخلاق ، بہت ملنسار، بہت خوبیوں کے مالک تھے۔جب حضرت خلیفہ اسیح الرابع