خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 54
خطبات مسر در جلد دہم 54 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 جنوری 2012ء دنوں کے دوران خدمت دین کے لئے ان کی قوت عمل اور جوش و جذ بہ خاص طور پر دیکھنے والا ہوتا تھا۔وہ خلیفہ وقت کے خطابات کے علاوہ باقی مقررین کی تقاریر کا بھی ایم ٹی اے کے ناظرین یا جلسہ پر موجود جو شاملین ہوتے تھے ، اُن کے لئے رشین ترجمہ کیا کرتے تھے۔رشیا اور سابقہ روسی ریاستوں سے جو بھی مہمان جلسہ پر آتے اُن کو انتہائی خندہ پیشانی سے ملتے۔اُن کو جماعت کی ترقیات کا بتاتے۔ہمیشہ اُن کو ایسی باتیں بتاتے جو آنے والے مہمانوں کے لئے ازدیاد ایمان کا باعث ہوتیں۔پھر مہمانوں کی ضروریات کا خیال رکھتے۔انتظامیہ کو توجہ دلاتے کہ ان کی فلاں فلاں ضروریات پوری کرنی چاہئیں۔جلسہ سالانہ کی برکات اور اہمیت کے حوالہ سے اکثر کسی نہ کسی رنگ میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس بات کا ذکر کیا کرتے تھے کہ رشیا اور دیگر ریاستوں کے احمدیوں کو سالہا سال اگر تبلیغ کرتے رہیں تو وہ اتنا مفید اور مؤثر ثابت نہیں ہوتا جتنا کسی کو صرف ایک بار جلسہ سالانہ میں شمولیت کے لئے دعوت دینا اور اس کی ملاقات خلیفہ وقت کے ساتھ کر وا دینا۔اور اس کے لئے بہت کوشش کیا کرتے تھے تاکہ زیادہ سے زیادہ مہمان جلسے پر لے کر آئیں۔آپ نے بہت سی جماعتی کتب کا رشین میں ترجمہ کیا ہے جو رشیا اور دیگر ریاستوں میں تبلیغ کے کام میں کافی مد اور معاون ثابت ہوتی ہیں۔ان کتب کے علاوہ انہوں نے راشین ترجمہ قرآن کے لئے بھی بڑی نمایاں خدمت سر انجام دی ہے اور یہ بہت اہم کام ہے جو انہوں نے کیا ہے۔خالد صاحب جو ہمارے رشین ٹریک کے مربی ہیں، لکھتے ہیں کہ میں نے اور رستم حماد ولی صاحب ( ماسکو) نے 1999ء میں خلیفہ اُمسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے اردو ترجمہ قرآن کو مد نظر رکھتے ہوئے نئے رشین ترجمہ قرآن کا کام شروع کیا تھا اور یہ 2004ء میں مکمل کیا۔جس کے بعد اس کی چیکنگ اور صحیح کا کام دونوں نے راویل صاحب کے ساتھ مل کر کیا اور یہ کام لندن میں مکمل ہوا۔کام کے دوران میں دن رات ایک کر کے انہوں نے تقریباً تین مہینے کے دوران نہایت محنت اور لگن کے ساتھ اس کام کو پورا کروایا۔قرآن کریم کے ترجمے کا کام چونکہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے، احتیاط کا متقاضی ہے اس لئے چیکنگ کے مرحلہ میں ہر ہر لفظ کے بارے میں تسلی کیا کرتے تھے کہ آیا قرآنِ کریم میں بالکل ایسے ہی ہے جیسے ہم نے ترجمہ کیا ہے۔اس کے لئے رشین زبان میں سے سب سے زیادہ مناسب لفظ کیا ہوسکتا ہے،اُس کا استعمال کرنے کی کوشش کرتے تھے۔کہتے ہیں کہ بعض دفعہ ایک ایک آیت کی چیکنگ میں کئی کئی گھنٹے لگ جایا کرتے تھے۔راویل صاحب پوری چھان پھٹک سے ترجمہ کیا کرتے تھے۔ان کی اس کاوش کے نتیجے میں رشین ترجمہ قرآن کے اب تک تین ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔لندن میں 2006ء میں، ماسکو