خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 338 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 338

خطبات مسرور جلد دہم 338 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ یکم جون 2012ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جلسے کے بارے میں جب بھی اشتہار دیا اور اعلان فرمایا تو اس پہلو کو خاص طور پر بیان فرمایا۔آپ نے جہاں خدا تعالیٰ کا خوف ، تقویٰ، زہد وغیرہ کی طرف توجہ دلائی وہاں نرم دلی، آپس کی محبت، بھائی چارہ ، عاجزی، انکساری کی طرف بھی اُسی شدت سے توجہ دلائی کہ صرف عبادتیں تقویٰ نہیں ہیں ، صرف جماعت کی خدمت کر دینا تقویٰ نہیں ، صرف اللہ اور رسول سے محبت کا اظہار کر دینا تقویٰ نہیں ، صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور خلافتِ احمدیہ سے تعلق تقویٰ نہیں بلکہ تقویٰ تب کامل ہوتا ہے جب ماں باپ کے حقوق بھی ادا ہو رہے ہوں، جب بیوی بچوں کے حقوق بھی ادا ہو رہے ہوں ، جب خاوندوں اور بچوں کے حقوق بھی ادا ہو رہے ہوں، جب عزیز رشتے داروں کے حقوق بھی ادا ہور ہے ہوں، جب دوستوں کے حقوق بھی ادا ہو رہے ہوں ، جب ہمسایوں کے حقوق بھی ادا ہورہے ہوں، جب بہن بھائیوں کے حقوق بھی ادا ہور ہے ہوں، جب افراد جماعت کے حقوق بھی ادا ہو رہے ہوں، یہاں تک کہ جب دشمنوں کے حقوق بھی ادا ہور ہے ہوں تب تقویٰ کامل ہوتا ہے۔اور یہ سب تعلیم قرآن کریم میں موجود ہے۔ہم جلسے میں شامل ہونے آئے ہیں تا کہ اپنی روحانی ترقی کے سامان کریں۔پس جہاں پر شامل ہونے والا اپنی عبادتوں اور اللہ تعالیٰ کے حقوق کی ادائیگی کی طرف نظر رکھے، وہاں یہ بھی دیکھے کہ جہاں عبادتوں، نمازوں، دعاؤں اور ذکر الہی کی طرف آپ توجہ کریں گے، وہاں آپس کی محبت اور تعلق اور ہمدردی کی طرف توجہ کرتے ہوئے اپنے جائزے لیں، ورنہ آپ ایک ایسی جگہ تو آگئے جہاں لوگوں کا اکٹھ ہے، اجتماع ہے۔ایسی جگہ تو آپ آگئے جہاں آپ کے عزیز رشتے دار اور بعض ہم مزاج لوگ آئے ہوئے ہیں۔ایک ایسی جگہ تو آپ آگئے جہاں بعض علمی اور شاید تربیتی تقاریر سے آپ حظ بھی اٹھا لیں۔آپ اُس سے لطف اندوز بھی ہو جائیں گے لیکن جو مقصد ہے اُسے حاصل کرنے والے نہیں بن سکیں گے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حقوق العباد اور خاص طور پر اپنے بھائیوں سے ہمدردی کی طرف بہت توجہ دلائی ہے۔(انتظامیہ مجھے یہ بھی بتادے کہ آخر میں آواز کی جو گونج واپس آ رہی ہے تو کیا وہاں لوگوں کو آواز - پہنچ بھی رہی ہے کہ نہیں ؟ چیک کر کے بتا ئیں ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب ایک مرتبہ بعض حالات اور ایک حصہ جماعت کے رویے کی وجہ سے جلسہ سالانہ ملتوی فرما یا توفرمایا: