خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 314
خطبات مسرور جلد دهم 314 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 مئی 2012ء باتیں ہیں اُن کو ختم کیا جائے اور اعلیٰ قسم کے جو اخلاق ہیں اُن کو اختیار کیا جائے۔اور ہر خلق جو ہے اُس کو اپنا یا جائے تبھی اُس کو متقی کہیں گے۔فرمایا کہ اگر فرداً فرداً کسی میں اخلاق ہیں اُس کو متقی نہیں کہیں گے ) جب تک بحیثیت مجموعی اخلاق فاضلہ اس میں نہ ہوں۔اور ایسے ہی شخصوں کے لئے لا خَوْفٌ عَلَيْهِمُ وَلاهُمْ يَحْزَنُونَ (البقرة: 63) ہے۔اور اس کے بعد ان کو کیا چاہئے۔اللہ تعالیٰ ایسوں کا متولی ہو جاتا ہے (یعنی جب انسان ایسے مقام کو پہنچ جاتا ہے تو اس کو کوئی خوف نہیں رہتا اور نہ وہ غمگین ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ پھر اُن کے ساتھ ہو جاتا ہے ) جیسے کہ وہ فرماتا ہے۔وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّلِحِينَ (الاعراف: 197) حدیث شریف میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے ہاتھ ہو جاتا ہے جس سے وہ پکڑتے ہیں۔ان کی آنکھ ہو جاتا ہے جس سے وہ دیکھتے ہیں۔ان کے کان ہو جاتا ہے جس سے وہ سنتے ہیں۔ان کے پاؤں ہو جاتا ہے جن سے وہ چلتے ہیں۔اور ایک اور حدیث میں ہے کہ جو میرے ولی کی دشمنی کرتا ہے میں اس سے کہتا ہوں کہ میرے مقابلہ کے لئے تیار ہو۔ایک جگہ فرمایا ہے کہ جب کوئی خدا کے ولی پر حملہ کرتا ہے تو خدا تعالیٰ اس پر ایسے جھپٹ کر آتا ہے جیسے ایک شیرنی سے کوئی اس کا بچہ چھینے تو وہ غضب سے جھپٹتی ہے۔“ ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 680-681 ایڈیشن 2003، مطبوعہ ربوہ ) پس یہ تقویٰ کا مقام ہے جس کو ہمیں حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔پھر جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پہلے اقتباس میں جس میں جلسے کی غرض لکھی تھی ، میں نے پڑھا تھا ، آپ نے توجہ دلائی ہے کہ جلسے میں آکر اپنی دینی مہمات کی طرف بھی توجہ کرو۔ہمیں ہمیشہ یا درکھنا چاہئے جیسا کہ مختصر پہلے بھی میں ذکر کر چکا ہوں کہ یہ دینی مہمات ، دین کی تبلیغ اور اس کے لئے قربانیاں دینا ہے۔آپ میں سے اکثریت وہ ہے جو پاکستان سے ہجرت کر کے یہاں اس لئے آئے ہیں کہ آپ کو پاکستان میں دین کی اشاعت اور تبلیغ کا کام تو ایک طرف رہا، دین پر عمل کرنے کی بھی اجازت نہیں۔نماز ہم وہاں سر عام کھلے طور پر پڑھ نہیں سکتے۔کلمہ لکھنے سے ہمیں روکا جاتا ہے۔آئے روز ہماری مساجد سے کلمہ مٹانے کے لئے حکومتی کارندے اور پولیس والے مولویوں کے کہنے پر آجاتے ہیں اور اب تو بڑے شہروں میں بھی بڑی مساجد کی طرف بھی ان کی نظر ہے۔تو بہر حال دین کے معاملے میں احمدیوں پر تنگیاں وارد کی جارہی ہے۔اس لئے آپ میں سے اکثریت یہاں آئی ہے۔گزشتہ کچھ دنوں میں تھائی لینڈ سے بھی کافی پاکستانی فیملیاں یہاں آئی ہیں۔جو پاکستانی وہاں پھنسے ہوئے تھے، اُن کے کیس یو این او (UNO) کے ذریعے سے وہاں پاس کئے گئے، اور وہ یہاں بھیج دیئے گئے۔بعض جو آنے والے ہیں ان میں سے براہ راست پاکستان میں