خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 22 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 22

خطبات مسرور جلد دہم 22 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 جنوری 2012 ء چلنے والا بھی ہو۔وہ اُس کے بھیجے ہوئے فرستادے کو قبول کرے پھر اُس تعلیم پر عمل کرے جو دی جارہی ہے۔بہر حال جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا علاج استغفار بتایا ہے۔دوسری آیت جو میں نے تلاوت کی ہے اس میں استغفار کا طریق سکھایا گیا ہے۔بتایا گیا ہے کہ استغفار کس طرح کرنی ہے۔اس کا ترجمہ یہ ہے کہ : نیز یہ کہ تم اپنے رب سے استغفار کرو پھر اس کی طرف تو بہ کرتے ہوئے جھکو تو تمہیں وہ ایک مقررہ مدت تک بہترین سامانِ معیشت عطا کرے گا اور وہ ہر صاحب فضیلت کو اُس کے شایانِ شان فضل عطا کرے گا۔اور اگر تم پھر جاؤ تو یقیناً میں تمہارے بارے میں ایک بہت بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔پس جیسا کہ میں نے کہا کہ حقیقی استغفار کرنے والے کی اللہ تعالی رہنمائی فرماتا ہے۔اس آیت کے شروع میں اس حقیقت کو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے بخشش مانگو۔اُس سے اُس کی مدد کے طالب ہو، اُس سے دعائیں کرو کہ وہ تمہارے دلوں کے زنگ دھو کر خالص بندہ بنا دے۔تو اللہ تعالیٰ پھر اپنے وعدے کے مطابق مددفرماتا ہے۔لیکن اگر ایک شخص آج ایک راستہ اختیار کرتا ہے،کل دوسرا راستہ اختیار کرتا ہے، استغفار میں مستقل مزاجی نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ استغفار نہیں ہے۔پس حقیقی استغفار یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے اُن جذبات و خیالات سے بچنے کی دعا مانگی جائے جو خدا تعالیٰ کو نا پسند ہیں اور خدا تعالیٰ تک پہنچنے میں روک ہیں اور جب یہ معیار حاصل ہو جائے گا، یہ جذبات دبانے کی صلاحیت پیدا ہو جائے گی تو پھر تُوبُوا الیہ کی حالت پیدا ہو گی۔وہ حالت پیدا ہوگی جب انسان پھر مستقل مزاجی سے اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور پھر جب یہ حالت ہو تو بندہ اللہ تعالیٰ کا مقرب بن جاتا ہے۔پس ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ حقیقی استغفار اور تو بہ صرف الفاظ دہرا لینا یا منہ سے اَسْتَغْفِرُ الله اسْتَغْفِرُ الله کہہ دینا کافی نہیں ہے بلکہ ساتھ ہی اپنی حالت کی تبدیلی کی کوشش کرنا بھی ضروری ہے اور یہی اللہ تعالیٰ کا قرب دلاتی ہے۔جب انسان اپنی حالت میں تبدیلی پیدا کرتا ہے تو پھر انسان کے لئے جیسا کہ پہلے بھی بیان ہوا ہے دینی اور دنیاوی فائدے ملتے ہیں۔دنیا و آخرت کے فائدے اسی میں ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا مورد انسان بنتا ہے۔اس آیت کی روشنی میں استغفار کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ وَانِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ (هود: 4) یا درکھو کہ یہ دو چیزیں اس اُمت کو