خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 726 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 726

خطبات مسرور جلد دہم 726 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 نومبر 2012 ء پر بیعت کروں کیونکہ اس سے دین میں خرابی ہوتی ہے۔دونو کی نیت نیک تھی۔انما الاعمال بالنیات۔یہ الگ امر ہے کہ یزید کے ہاتھ سے بھی اسلامی ترقی ہوئی۔یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے۔وہ چاہے تو فاسق کے ہاتھ سے بھی ترقی ہو جاتی ہے۔یزید کا بیٹا نیک بخت تھا“۔( یعنی نیک آدمی تھا۔) ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 579-580 ایڈ یشن 2003ء مطبوعہ ربوہ) پھر ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ”اس بات کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ انبیاء علیہم السلام اور ایسا ہی اور جو خدا تعالیٰ کے راستباز اور صادق بندے ہوتے ہیں وہ دنیا میں ایک نمونہ ہو کر آتے ہیں۔جو شخص اس نمونہ کے موافق چلنے کی کوشش نہیں کرتا لیکن اُن کو سجدہ کرنے اور حاجت رواما نے کو تیار ہو جاتا ہے“۔( یعنی غلو سے کام لیتا ہے۔اُن کا نمونہ تونہیں اپنا تا ہے لیکن مبالغہ اتنا بڑھ جاتا ہے کہ اُن کو سجدہ کرنے لگ جائے اور اپنی حاجتیں پوری کرنے والا سمجھ لے ) وہ کبھی خدا تعالیٰ کے نزدیک قابل قدر نہیں ہے بلکہ وہ دیکھ لے گا کہ مرنے کے بعد وہ امام اُس سے بیزار ہو گا۔ایسا ہی جو لوگ حضرت علی یا حضرت امام حسین کے درجہ کو بہت بڑھاتے ہیں گویا اُن کی پرستش کرتے ہیں وہ امام حسین کے متبعین میں نہیں ہیں اور اس سے امام حسین " خوش نہیں ہو سکتے۔انبیاء علیہم السلام ہمیشہ پیروی کے لیے نمونہ ہو کر آتے ہیں اور سچ یہ ہے کہ بڑوں پیروی کچھ بھی نہیں۔“ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 535 ایڈیشن 2003، مطبوعہ ربوہ) یعنی اصل چیز یہ ہے کہ ان نیک لوگوں کے اور خاص طور پر انبیاء کے طریق پر چلا جائے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام احمدیوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کیونکہ کسی احمدی نے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارہ میں کوئی بات کی تھی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے علم میں آئی ، اس پر آپ سخت ناراض ہوئے اور احمدیوں کو فرمایا کہ: واضح ہو کہ کسی شخص کے ایک کارڈ کے ذریعہ سے مجھے اطلاع ملی ہے کہ بعض نادان آدمی جو اپنے تئیں میری جماعت کی طرف منسوب کرتے ہیں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی نسبت یہ کلمات منہ پر لاتے ہیں کہ نعوذ باللہ حسین بوجہ اس کے کہ اُس نے خلیفہ وقت یعنی یزید سے بیعت نہیں کی ، باغی تھا اور یزید حق پر تھا۔لَعْنَتُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ۔فرمایا: ”مجھے امید نہیں کہ میری جماعت کے کسی راستباز کے منہ سے ایسے خبیث الفاظ نکلے ہوں۔مگر ساتھ اس کے مجھے یہ بھی دل میں خیال گزرتا ہے کہ چونکہ اکثر شیعہ نے اپنے ورد تبرے اور لعن و طعن میں مجھے بھی شریک کر لیا ہے ( یعنی مجھے گالیاں نکالتے رہتے ہیں ) اس لئے کچھ تعجب