خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 427 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 427

427 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 جولائی 2012ء خطبات مسرور جلد دہم کیسا استقبال ہوا ؟ امریکہ کا اچھا تھا یا یہاں۔تو انہوں نے اُس کو یہ جواب دیا تھا کہ کینیڈا والوں نے تو امریکہ کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔بہر حال یہ تو چھوڑنا ہی تھا۔آپ کی تعداد زیادہ ہے۔آپ کا یہاں Peace Village میں ماحول ایسا ہے۔یہاں اکثریت احمدی گھرانوں کی ہے۔مسجد ساتھ ہے۔لیکن اس کا فائدہ اُٹھانے کے لئے صرف ظاہری استقبال کافی نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کے مضمون کو سامنے رکھیں۔اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ مہیا کی ہے جس میں آپ اکٹھے رہتے ہیں۔مسجد بھی ساتھ ہے جیسا کہ میں نے کہا۔اس مسجد کو آباد کریں تبھی اس کی خوبصورتی اور اللہ تعالیٰ کی شکرگزاری کا اظہار ہوگا۔بوڑھے تو یہاں آ ہی جاتے ہیں اور اکثر بوڑھے ریٹائر ہیں۔انہیں کوئی کام نہیں تو وہ شاید پانچ وقت نمازوں پر آ جاتے ہوں۔لیکن اصل مقصد تب پورا ہوگا جب بچے اور نو جوان عبادت کے حقیقی مقصد کو سمجھتے ہوئے یہاں آئیں گے۔مسجد کو آباد کریں گے۔جماعتی روایات کو قائم کریں گے۔لڑکیاں اور عورتیں بھی اس ماحول میں رہتے ہوئے اپنے تقدس کی اور اپنی حیا کی اور اپنی اقدار کی حفاظت کریں گی۔نوجوان لڑکے بھی اپنی قدروں کو پہچاننے والے ہوں گے۔اس ماحول میں ڈوب جانے والے نہیں ہوں گے۔اور جب یہ مقصد حاصل کرنے کی کوشش کریں گے تو تبھی اللہ تعالیٰ کے حقیقی شکر گزار بن سکیں گے۔ورنہ صرف نعرے لگا دینے سے یا سڑکوں پر استقبال کرنے سے ایک حد تک تو اخلاص و وفا کا اظہار ہو جاتا ہے لیکن اصل مقصد حاصل نہیں ہوتا۔یہاں کے مقامی لوگ، میئر بھی مجھے ملے اور دوسرے سیاستدان بھی ملے، ہماری جماعت سے عموماً بہت متاثر ہیں اور کئی مجھے کہتے ہیں کہ تمہیں اپنی جماعت پر فخر ہونا چاہئے کہ کیسے کیسے لوگ تمہاری جماعت میں شامل ہیں۔بڑے قانون کے پابند ہیں۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ یہ سب کچھ ملا ہوا ہے۔یہ لوگ تو دنیاوی نظر سے دیکھتے ہیں اور انہیں اچھا معیار نظر آتا ہے لیکن ہم نے اُس نظر سے دیکھنا ہے جو قرآن کریم ہمیں دکھاتا ہے، جو اس زمانے میں قرآن کریم کی تعلیم کی روشنی میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں کھول کر بتایا ہے۔ہماری اعلیٰ اخلاقی قدروں اور دین پر قائم ہونے کے معیار د نیا داروں کے بنائے ہوئے معیار نہیں ہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے بنائے ہوئے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے اور اُس کا شکر گزار ہونے کے لئے ضروری ہے کہ جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا کہ ہمیں قرآنی تعلیم کو اپنے اوپر لاگو کرنا ہو گا اور اس کے لئے کوشش کرنی چاہئے۔پس آپ زمین کی طرف اور زمینی لوگوں کی طرف نہ دیکھیں بلکہ آسمان کی طرف اور زمین و آسمان کے مالک کی طرف دیکھیں اور جب یہ ہو گا تب ہی ہم حقیقی شکر گزار بن سکیں گے۔تب ہی آپ کے استقبال اور نعرے اور ہر