خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 346
خطبات مسرور جلد دہم 346 خطبه جمعه فرموده مورخہ یکم جون 2012ء کیوں سپر د ہو گئی ہے؟ میرے سپرد کیوں نہیں ہوئی ؟ اگر ہم میں سے ہر ایک کو اس بات پر یقین ہے کہ جماعت احمد یہ ایک الہی جماعت ہے اور یقینا ہے تو پھر بجائے عہدہ کی خواہش رکھنے کے استغفار کی طرف توجہ دینی چاہئے کہ اگر کسی وقت بھی میرے سپرد یہ خدمت ہوئی تو میں اس کو احسن رنگ میں سرانجام دے سکوں۔عہدہ کی خواہش رکھنے والے کے بارے میں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ایسے شخص کو پھر عہدہ ہی نہ دو۔اور پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ امانتوں کی حفاظت کرو تم اس بارے میں پوچھے جاؤ گے۔عہدے اور جماعتی خدمت بھی امانتیں ہیں۔اگر انسان کے دل میں تقویٰ ہو تو وہ ہر وقت خوفزدہ رہے کہ جو خدمت میرے سپر د ہے اُس کا حق ادا نہ کرنے کی وجہ سے میری جواب طلبی ہوگی اور کسی بندے کے سامنے جواب طلب نہیں ہوگی جس کو باتوں میں چرا کر دھوکہ دیا جا سکتا ہو بلکہ اُس عالم الغیب، علیم وخبیر خدا کے سامنے جواب دہی ہوگی جس سے کوئی بات چھپی ہوئی نہیں ، جسے دھو کہ نہیں دیا جا سکتا۔پس اگر یہ بات سب عہدیدار بھی سامنے رکھیں اور عہدوں کی خواہش رکھنے والے بھی سامنے رکھیں تو نفسانی خواہشات کے بجائے تقویٰ کی طرف قدم آگے بڑھیں گے۔پھر یہ تقویٰ کی کمی ہے جو معمولی باتوں پر رنجشوں کو بڑھاتی ہے اور پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب ایسی حالت ہو جاتی ہے کہ یہ منصوبہ بندی ہو رہی ہوتی ہے کہ فلاں کو دُکھ کس طرح پہنچایا جائے۔فلاں کو نظام جماعت اور خلیفہ وقت کے سامنے کس طرح گھٹیا اور ذلیل ثابت کیا جائے یا کم تر ثابت کیا جائے یا اُس کی کوئی کمزوری اُس کے سامنے لائی جائے۔یہاں تک کہ مجالس میں اُس کے بیوی بچوں کو کس طرح ذلیل کرنے کی کوشش کی جائے۔پورا خاندان بعض دفعہ اس میں involve ہو جاتا ہے۔پس کجا تو اس شرط پر بیعت ہو رہی ہے کہ نہ صرف یہ کہ کسی کو تکلیف نہیں پہنچاؤں گا بلکہ ہمدردی کے راستے تلاش کروں گا۔فائدہ پہنچانے کی ترکیبیں سوچوں گا اور کجا یہ عمل ہے۔پس جیسا کہ میں نے کہا، اس معیار کو حاصل کرنے کے لئے اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے۔ان دنوں میں اپنے یہ جائزے لیں۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ دن اس راہ کے لئے مہیا فرمائے ہیں۔میں یہ سب باتیں کسی مفروضے پر بنیاد کر کے نہیں کہہ رہا بلکہ حقیقت میں ایسے معاملے سامنے آتے ہیں جو میرے لئے پریشانی کا موجب ہوتے ہیں ، شدید شرمندگی کا باعث بنتے ہیں کہ میں تو دنیا کو یہ بتاتا ہوں کہ جماعت احمد یہ وہ جماعت ہے جو حقوق کی ادائیگی کی راہیں تلاش کرتی ہے۔اُس مسیح موعود کو ماننے والی ہے جو تقویٰ کی باریک راہوں پر چلانے