خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 117
خطبات مسرور جلد دہم 117 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 فروری 2012 ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیج کر اپنے اس ارادے کو عملی جامہ پہنایا ہے۔پس ہم جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف منسوب ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں تو ہمیں دنیا داری سے ہٹ کر خالص ہونا ہو گا اور جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا تب ہی مسجد بنانے کا ہمارا مقصد پورا ہوگا۔عبادتوں کے ساتھ اپنے اعمال کی درستی کی طرف توجہ دینی ہوگی۔جو یہ کرے گا وہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی بیعت کا حق ادا کرنے والا ہوگا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے یہ الفاظ کہ اب خدا کا ارادہ ہے کہ ان کی تخمریزی ہو یہ نرے الفاظ نہیں ہیں بلکہ طبیعتوں میں یہ انقلاب اس تخم ریزی سے پیدا ہوئے۔آج سے ایک سو تئیس سال پہلے جو تخمریزی ہوئی تھی، اُس نے لاکھوں عبادالصالحین پیدا کئے۔عبادالصالحین کے پھل آپ کو عطا کئے اور اللہ تعالیٰ کا یہ سلوک آج بھی جاری ہے۔نئے لوگ جو جماعت میں شامل ہوتے ہیں وہ اس سوچ کے ساتھ ہوتے ہیں کہ کس طرح اللہ تعالیٰ سے زندہ تعلق پیدا ہو۔کس طرح عبادتوں کے معیار بلند کرنے کی کوشش کی جائے۔کس طرح اعلیٰ معیار حاصل کئے جائیں جس سے بندہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والا بن جائے ؟ آپ لوگ جو اس وقت میرے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں، آپ میں بہت بڑی تعداد ایسے احمدیوں کی ہے جن کے باپ دادا احمدی ہوئے۔جنہوں نے خدا تعالیٰ کے ارادے کو سمجھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آئے اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کے معیار قائم کئے۔پس اُن بزرگوں کی عبادتوں کو مزید پھل لگانے کے لئے اگلی نسلوں کا فرض بنتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے بچے تعلق کو نہ صرف قائم رکھیں بلکہ بڑھانے کی کوشش کریں۔اور یہی چیز ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی جماعت کو دوسروں سے ممتاز کرنے والی ہو گی۔ورنہ ظاہری نمازیں، ظاہری روزے، ظاہری طور پر قرآن کریم پڑھنا، اس کی تلاوت کرنا، یہ تو بہت سے دوسرے لوگ بھی کرتے ہیں۔ہم میں اور دوسروں میں فرق صرف اُسی وقت ظاہر ہو گا جب ہمارا ہر فعل خدا تعالیٰ کے لئے ہو گا اور جب ہم دنیاوی معاملات میں بھی خدا تعالیٰ کی رضا کے پہلو تلاش کریں گے۔تو اُس وقت مساجد میں جا کر عبادت کے وقت بھی ہماری تمام تر توجہات خدا تعالیٰ کی طرف ہوں گی اور دین کو اُس کے لئے خالص کرتے ہوئے اُسے ہی پکاریں گے۔نمازوں میں ہماری توجہ ہمارے کاروباروں کی طرف نہیں ہو گی ، ملازمتوں کی طرف نہیں ہو گی، دنیاوی خواہشات کے حصول کی طرف نہیں ہوگی، کسی دوسرے سے دنیا وی بدلے لینے کی طرف نہیں ہوگی بلکہ تمام معاملات خدا پر چھوڑ کر اُس کے حضور جھکیں گے۔اللہ کرے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے والے ہوں۔اُن باتوں پر عمل کرنے والے ہوں جن کا اللہ تعالیٰ