خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 87 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 87

خطبات مسرور جلد دہم 87 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 فروری 2012 ء خوبی کا سوال ہی نہیں، اُس میں خوبیاں ہی خوبیاں ہیں، یہ نہیں ہو سکتا کہ پہلے کوئی خوبی تھی تو اُس میں بہتری آگئی بلکہ اس کے لئے اول و آخر اور ظاہر و باطن میں ابدالا باد تک حمد ثابت ہے۔اور جو اس کے خلاف کہے وہ حق سے برگشتہ ہو کر کافروں میں سے ہو گیا۔“ (اردو ترجمه عربی عبارت از کرامات الصادقین روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 108 109 بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود جلد 1 صفحہ 79-81) پس اللہ تعالیٰ تمام نقائص سے پاک ہے۔جو اُس کی صفات کا صحیح ادراک نہیں کرتا، وہ تباہی کے گڑھے میں گرتا ہے۔تمام پہلی قوموں کی تباہی اسی لئے ہوئی کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کی صفات کو نہیں پہچانا اور شرک میں پڑ گئے اور اگر پہچان لیا تو بھول گئے۔پھر اس بات کی وضاحت فرماتے ہوئے کہ مسلمانوں کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ ان کا معبود وہ ہے جس کے لئے سب حمد ہے، آپ فرماتے ہیں کہ : الحمد للہ کے الفاظ میں مسلمانوں کو تعلیم دی گئی ہے کہ جب اُن سے سوال کیا جائے اور اُن سے پوچھا جائے کہ اُن کا معبود کون ہے؟ تو ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ یہ جواب دے کہ میرا معبود وہ ہے جس کے لئے سب حمد ہے اور کسی قسم کا کوئی کمال اور قدرت ایسی نہیں مگر وہ اس کے لئے ثابت ہے۔پس تو بھولنے والوں میں سے نہ بن۔“ اردو ترجمه عربی عبارت از کرامات الصادقین روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 100 بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود جلد 1 صفحہ 82) تو صرف الحمد للہ منہ سے کہہ دینا کافی نہیں ، جب بھی الحمد کہی جائے تو فورا خیال اس طرف پھرنا چاہئے کہ میرا ایک معبود ہے، ایک خدا ہے جس کی میں عبادت کرتا ہوں اور عبادت اس لئے کرتا ہوں کہ وہ میرا رب ہے، میرا اللہ ہے۔پھر آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : اس سورۃ کو الحمد للہ سے شروع کیا گیا ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ ہر ایک حمد اور تعریف اس ذات کے لئے مسلم ہے جس کا نام اللہ ہے اور اس فقرہ الحمد للہ سے اس لئے شروع کیا گیا کہ اصل مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی عبادت روح کے جوش اور طبیعت کی کشش سے ہو اور ایسی کشش جو عشق اور محبت سے بھری ہوئی ہو ہر گز کسی کی نسبت پیدا نہیں ہو سکتی جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ وہ شخص ایسی کامل خوبیوں کا جامع ہے جن کے ملاحظہ سے بے اختیار دل تعریف کرنے لگتا ہے۔اور یہ تو ظاہر ہے کہ کامل تعریف دو قسم کی خوبیوں کے لئے ہوتی ہے۔ایک کمال حسن اور ایک کمال احسان ( یعنی کسی میں خوبصورتی