خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 80
خطبات مسرور جلد دہم 80 6 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 فروری 2012 ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفة اسم الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 10 فروری 2012 ء بمطابق 10 تبلیغ 1391 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح مورڈن - لندن تشهد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: سورۃ فاتحہ ایک ایسی سورۃ ہے جسے ہم ہر نماز میں پڑھتے ہیں۔احادیث میں جہاں اس کے بہت سے نام اور فضائل بیان ہوئے ہیں وہاں ایک روایت میں اس کا نام سورۃ الصلواۃ بھی ہے۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ”میں نے صلوۃ یعنی سورۃ فاتحہ کو اپنے اور بندے کے درمیان نصف نصف کر کے تقسیم کر دیا ہے۔“ (صحیح مسلم کتاب الصلوة باب وجوب قراءة الفاتحة في كل ركعة حديث: 878) یعنی آدھی سورۃ میں صفات الہیہ کا ذکر ہے اور آدھی سورۃ میں بندے کے حق میں دعا ہے۔پس یہ اس کی ایسی اہمیت ہے جسے ہر نماز پڑھنے والے کو ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات پر بھی غور کرتے ہوئے اُن سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھانے کی کوشش کی جائے اور اسی طرح اس بات پر بھی غور کر کے جو اس میں دعائیں ہیں، اس کی دعاؤں سے بھی فیض پانے کے لئے ہر نماز کی ہر رکعت میں بڑے غور سے پڑھنا چاہئے۔اسی طرح یہ بات بھی ہمیشہ یاد رکھنی چاہئے کہ اس سورۃ کا اس زمانے میں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا زمانہ ہے اس سے بھی بہت نسبت ہے۔پرانے صحیفوں میں بھی اس حوالے سے اس کا ذکر موجود ہے اور خود سورۃ فاتحہ کا مضمون بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وقت کے انعامات اور اس کے حصول اور اس زمانے کے شر اور گمراہی سے بچنے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔پس اس لحاظ سے آجکل کے مسلمانوں کے لئے اس کی بڑی اہمیت ہونی چاہئے۔لیکن بدقسمتی سے مسلمان علماء نے قوم کو اس حد تک اپنے قابو میں کر لیا ہے ، اس حد تک اُن کی غور کرنے کی