خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 808
خطبات مسرور جلد دهم 808 خطبه جمعه فرموده مورخہ 28 دسمبر 2012ء مرحوم بہت نیک فطرت آدمی تھے محنتی تھے ، اطاعت گزار تھے اور وفا شعار تھے، واقف زندگی تھے۔ایم ٹی اے کی نئی ڈشوں کی تنصیب کا کام بڑی دلچسپی اور محنت سے کرتے رہے۔آپ کے والد کا انتقال بچپن میں ہو گیا تھا۔پسماندگان میں بوڑھی والدہ اور ایک شادی شدہ بہن یاد گار چھوڑی ہیں۔اللہ تعالیٰ والدہ کو بھی صبر اور حوصلہ عطا فرمائے۔مرحوم موصی تھے۔بہشتی مقبرہ قادیان میں ان کی تدفین ہوئی ہے۔عبد القادر صاحب بھی زخمی ہیں۔ان کے لئے بھی دعا کریں۔اللہ تعالیٰ ان کو شفائے کاملہ عاجلہ عطا فرمائے۔تیسرا جنازہ روبینہ نصرت ظفر صاحبہ کا ہے جو مکرم مرزا ظفر احمد صاحب شہید لاہور کی اہلیہ تھیں۔13 دسمبر کو تقریباً دو سال کینسر کے مرض میں مبتلا رہ کر وفات پاگئیں۔إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔28 رمئی کو ان کے شوہر کو دارالذکر لاہور میں شہید کر دیا گیا تھا۔بڑے حوصلے اور صبر سے یہ سارا صدمہ آپ نے برداشت کیا۔جب آپ کے شوہر کی میت کو گھر لایا گیا تو زبان پر یہی الفاظ تھے کہ کوئی ان کی شہادت پر نہ روئے۔ہر ایک رونے والے کو منع کرتی تھیں۔اللہ تعالیٰ کی رضا میں راضی رہنا ہے۔یہی کہا کرتی تھیں۔آنکھوں سے آنسو تو جاری تھے لیکن مرحومہ نے بلند حو صلے اور ہمت سے کام لیا اور سب گھر والوں کو تسلی دی ، حوصلہ دلایا۔اپنے والد صاحب کے ساتھ یہ سیرالیون میں بھی کچھ عرصہ رہی ہیں۔شادی کے بعد 1988ء میں ان کے شوہر جاپان چلے گئے تو یہ بھی اُن کے ساتھ چلی گئیں۔وہاں صدر لجنہ ٹوکیو اور نیشنل مجلس عاملہ میں سیکرٹری اصلاح وارشاد کے طور پر جماعتی خدمات بجالاتی رہیں۔کئی تبلیغی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔مالی قربانی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والی تھیں۔اپنے زیورات جماعت کو پیش کر دیا کرتی تھیں۔2004ء میں یہ جاپان سے واپس آگئے تو پھر یہاں پاکستان میں لمبا عرصہ ان کو لجنہ کی خدمت کی توفیق ملی۔آپ نائب سیکرٹری تحریک جدید قیادت بیت النور تھیں اور صدرحلقہ بحریہ ٹاؤن لاہور بھی تھیں۔خلافت سے بڑا وفا کا تعلق تھا۔خطبات کو ایم ٹی اے پر سنتی تھیں اور پوائنٹس نوٹ کیا کرتی تھیں اور پھر اُن کو مختلف موقعوں پر بتایا کرتی تھیں۔اتنا لمبا عرصہ نہایت صبر سے انہوں نے تکلیف کو برداشت کیا۔کبھی حرفِ شکایت زبان پر نہیں آیا۔ان کو کوئی چھوٹے سے چھوٹا تحفہ بھی رقم کی صورت میں ملتا تھا تو اس پر فوراً چندہ ادا کر دیا کرتی تھیں۔ان کے چھوٹے بھائی سیکرٹری مال تھے تو وہ کہا کرتے تھے کہ چندہ مہینے میں ایک دفعہ اکٹھا ہی دے دیا کریں تو کہتی تھیں کہ جب کوئی آمد ہو اُسی وقت چندہ دینا ہے تا کہ خدا تعالیٰ کے معاملوں میں معمولی سی بھی تاخیر نہ ہو۔2011ء کے جلسہ میں یہاں آئی تھیں۔بیماری کے بعد آئی تھیں لیکن اللہ کے فضل سے بڑے حو صلے میں تھیں۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔ان کی اولاد کوئی نہیں تھی۔الفضل انٹرنیشنل مورخہ 18 تا 24 جنوری 2013 جلد 20 شماره 3 صفحه 5 تا 9)