خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 807
خطبات مسرور جلد دہم 807 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 28 دسمبر 2012ء پروفیسر بشیر احمد چوہدری صاحب کا ہے۔یہ مکرم چوہدری سراج دین صاحب لاہور کے بیٹے تھے۔2 رنومبر کو مختصر علالت کے بعد اڑسٹھ سال کی عمر میں وفات پاگئے ، اِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔28 مئی 2010ء کے سانحہ لاہور میں مسجد نور ماڈل ٹاؤن میں تھے جہاں کئی گولیاں ان کو لگی تھیں۔شدید زخمی ہوئے تھے۔ان کا دایاں بازو اور دائیں ٹانگ اور کولہا فائرنگ سے بری طرح متاثر ہوئے تھے۔ڈیڑھ سال تک متواتر ماہر ڈاکٹروں کے زیر علاج رہے ہیں۔شدید جسمانی اور ذہنی تکلیف اُٹھائی لیکن باوجود بیماری کے اس لمبے عرصہ کے بڑے صبر اور حو صلے اور جوانمردی سے انہوں نے وقت گزارا ہے اور کبھی حرف شکایت زبان پر نہیں لائے۔چلنے پھرنے کے قابل تو ہو گئے تھے۔لیکن پھر پچھلے مہینہ ان کی وفات ہوئی ہے۔یہ تو بہر حال اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے۔نمازوں کے بڑے پابند، قرآن کریم سے محبت کرنے والے، بڑے منکسر المزاج تھے۔سلسلہ کے کاموں میں ہمیشہ کمر بستہ، خلافت کے ساتھ والہانہ عشق، انہوں نے انگریزی اور اکنامکس میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی تھی اور پنجاب یونیورسٹی میں انگریزی کے استاد اور اسی ادارے میں ایڈوائزر کے عہدے پر بھی فائز رہے۔اس سے پہلے ایف سی کالج میں انگریزی کے پروفیسر رہے۔انگریزی کی چھ کتب کے مصنف بھی تھے جو وہاں سکولوں میں پڑھائی جاتی ہیں۔انگریزی زبان کے شاعر بھی تھے۔ضلع کی سطح پر شعبہ وقف نو اور شعبہ تعلیم میں خدمت کی توفیق پائی۔گلبرگ میں آپ کا گھر میں سال تک نماز سینٹ بھی رہا۔چندوں کی ادائیگی میں تحریکات میں بڑا بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے تھے۔مرحوم کے پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ پانچ بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں۔اللہ تعالیٰ سب کو صبر اور حوصلہ دے۔ان کے درجات بلند فرمائے۔دوسرا جنازه با بر علی صاحب کا ہے جو 17 / دسمبر 2012ء کو ایک حادثہ میں تیس سال کی عمر میں وفات پاگئے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔یہ بھی ایک طرح کی شہادت ہی ہے۔آپ اپنے سرکل انچارج مکرم شیخ عبدالقادر صاحب کے ساتھ موٹر سائیکل پر ایک جماعتی دورہ کر رہے تھے۔جماعتی کام کے دوران سب کچھ ہوا ہے۔اس لئے بہر حال یہ بھی شہید ہیں۔شام کو تقریباً سات بجے دورہ مکمل کر کے واپس آ رہے تھے کہ سردی کے موسم کی وجہ سے وہاں دھند چھائی ہوئی تھی اور سڑک چھوٹی تھی تو اچانک مخالف سمت سے آنے والے ایک تیز رفتار ٹریکٹر سے ان کی موٹر سائیکل ٹکرائی اور حادثہ کی وجہ سے یہ اور شیخ عبدالقادر صاحب دونوں شدید زخمی ہو گئے۔غیر آباد جگہ تھی جہاں حادثہ ہوا۔لوگوں نے تھوڑی دیر بعد دیکھا۔پھر پولیس کو اطلاع کی ، ہسپتال پہنچایا گیا۔لیکن بابر علی صاحب معلم جو موٹر سائیکل چلا رہے تھے اُن کو داہنے بازو اور سینے پر شدید چوٹیں آئی تھیں جس کی وجہ سے آپ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے راستے میں وفات پاگئے۔انا للہ۔