خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 804 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 804

خطبات مسرور جلد دہم 804 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 28 دسمبر 2012ء وہ مسجد مولوی محمد حسین بٹالوی کی تھی۔جب صبح نماز پڑھ کر بیٹھ گئے تو مولوی محمد حسین صاحب پوچھنے لگے کہ مہمان کہاں سے آئے ہیں؟ ہم نے منشی گلاب الدین صاحب کو کہا کہ آپ تعلیم یافتہ ہیں اور یہ مولوی معلوم ہوتے ہیں۔آپ ہی بات کریں۔چنانچہ انہوں نے کہا کہ ہم رہتاس ضلع جہلم سے آئے ہیں۔مولوی صاحب نے مہمان سمجھ کر گنے کے رس کی کھیر کھلائی۔پھر پوچھا کہ آپ کہاں جائیں گے۔منشی صاحب نے کہا قادیان۔مولوی صاحب کہنے لگے ادھر کیا کام ہے؟ منشی صاحب نے کہا کہ مرزا صاحب نے دعویٰ کیا ہے اور جلسہ کا بھی اعلان کیا ہے۔کہتے ہیں لکھتے ہوئے کہ ایک بات رہ گئی کہ جب رہتاس میں منشی صاحب نے رسالے سنائے تو بھائی اللہ دتہ تیلی نے کہا کہ یہ جو مرزا صاحب نے کہا ہے کہ مسیح مرگیا ہے اور میں آنے والا مسیح ہوں، یہ معمولی بات نہیں ہے اور نہ ایسا کہنے والا معمولی انسان ہے جو تیرہ سوسال کی اتنی بڑی غلطی کو نکالے۔خیر کہتے ہیں مولوی محمد حسین صاحب سے ہماری باتیں ہو رہی تھیں۔انہوں نے کہا کہ تمہاری عقل ماری ہوئی ہے۔اگر مرزا اچھا ہوتا ( یعنی صحیح ہوتا ) تو کیا ہم نہ جاتے؟ ( میں نہ بیعت کر لیتا جا کے؟ ) پس تم واپس چلے جاؤ۔کہنے لگا کہ مرزا صاحب ہمارے واقف ہیں۔میں اُن کو اچھی طرح جانتا ہوں۔انہوں نے تو ایک دوکان کھولی ہوئی ہے جو چلے گی نہیں۔خوامخواہ تم بھی پیسے برباد کر رہے ہو۔اُن کے پاس جانے کا کیا فائدہ۔وہ کہتے ہیں میرے ساتھی بات سن کے خاموش ہو گئے۔میں نے کہا کہ جو پیسے صرف کرنے تھے، وہ تو خرچ ہو گئے۔اب تو ہم ضرور جائیں گے۔دیکھ کر واپس آئیں گے۔خیر اُس نے روٹی منگوائی اور روٹی کھا کر ہم پیدل چل پڑے۔قادیان پہنچے، جلسہ شروع تھا۔پچیس تیس آدمی تھے۔یا جلسہ فصیل پر ہوا۔ایک تخت پوش تھا اور چند صفیں تھیں۔کھانے کے لئے پلاؤ زردہ اور پچھلکے آ گئے۔ہم نے کھا لئے۔ڈاکٹر عبد الحکیم صاحب بسترے اور جگہ دیا کرتے تھے۔ہمیں بھی اس نے جگہ بتلائی۔رات گزری۔صبح سویرے کھانا کھا کر دس بجے جلسہ میں شامل ہوئے۔حضرت صاحب تشریف لائے۔حضور کبھی رومی ٹوپی سر پر رکھا کرتے تھے، کبھی اُس پر ہی پگڑی باندھ لیا کرتے تھے اور ٹوپی پگڑی میں سے نظر آتی تھی۔حضور جب تخت پوش پر کھڑے ہوئے تو میں نے ساتھیوں کو کہا کہ دیکھو ایسی نورانی شکل بھلا اور کوئی نظر آ سکتی ہے۔اگر مولوی محمد حسین کی باتوں پر جاتے تو کیسے بد نصیب ہوتے۔“ (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ حضرت مسیح موعود رجسٹر نمبر 10 صفحہ 314 تا 317 - از روایات حضرت ملک غلام حسین صاحب مہاجر ) یہ جہاں ٹھہرے ہوئے تھے اور جہاں انہوں نے کھانا کھا یا غالباً یہ وہاں موجود تعداد کا ذکر کر رہے ہیں۔ورنہ 1892ء کے جلسہ سالانہ کی حاضری تو تاریخ احمدیت کے مطابق 327 تھی۔