خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 800 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 800

خطبات مسرور جلد دہم 800 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 28 دسمبر 2012ء ایک بیوہ لڑکی کو ناجائز حمل ہو گیا۔اُس نے کوشش کر کے جنین کو گرو ایا۔مگر اس سے لڑکی اور جنین دونوں کی موت واقع ہو گئی۔پولیس کو جب علم ہوا تو اُس کی تفتیش ہوئی جس سے اُس کا کافی روپیہ ضائع گیا اور عزت بھی برباد ہوئی۔وہ شرم کے مارے گھر سے باہر نہیں نکلتا تھا۔مجھے جب علم ہوا تو میں اُس کے گھر گیا، اُسے آواز دی۔وہ باہر آیا۔میں نے کہا حضرت مسیح موعود کی مخالفت کا وبال چکھ لیا ہے یا ابھی اس میں کچھ کسر باقی ہے۔اُس نے مجھے گالیاں دیں اور شرمندہ ہو کر اندر چلا گیا۔( یعنی اثر پھر بھی اُس پر نہیں ہوا ) اور پھر کبھی میرے سامنے نہیں آیا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ حضرت مسیح موعود رجسٹر نمبر 9 صفحہ 206-207 از روایات حضرت منشی قاضی محبوب عالم صاحب) اس قسم کے واقعات اب بھی ہوتے ہیں۔پاکستان میں جو ظلم ہورہے ہیں، ان میں اس قسم کے واقعات بھی ساتھ ساتھ ہوتے رہتے ہیں۔بیان اس لئے نہیں کیا جاتا کہ بعض اور وجوہات ہیں۔کیونکہ ابھی وہاں کے حالات ایسے نہیں، کہیں اور تنگ نہ ہوں۔لیکن اللہ تعالیٰ پاکستان میں بھی ، ان حالات میں بھی یہ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی توہین کرنے والے ہیں، اُن سے انتقام لیتا جارہا ہے۔کئی واقعات لوگ لکھتے ہیں کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے مخالفین کی پکڑ کی۔کس طرح اُن کی ذلت کے سامان کئے لیکن بہر حال جب وقت آئے گا تو وہ بیان بھی کر دیئے جائیں گے۔لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے اُن لوگوں کا اُس علاقے کے لوگوں کا پھر اس کو دیکھ کے ایمان بہر حال بڑھتا ہے۔حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی بیان کرتے ہیں۔انہوں نے 1897ء میں بذریعہ خط بیعت کی تھی اور دو سال بعد زیارت ہوئی تھی۔کہتے ہیں کہ مولوی امام الدین صاحب 1897ء میں مجھ سے پہلے بھی ایک دفعہ قادیان جاچکے تھے، مگر مخالفانہ خیالات لے کر آئے تھے۔( قادیان تو گئے تھے لیکن بیعت نہیں کی اور نہ صرف بیعت نہیں کی بلکہ مخالفت میں بڑھ گئے۔) مگر جب مجھے بار بار خوا ہیں آئیں اور میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قادیان آئے ہیں تو ان پر ( امام الدین صاحب پر ) بھی اثر ہوا۔اور ہم دونوں نے 99ء میں جا کر بیعت کی۔جب ہم مسجد مبارک کے پاس پہنچے تو مولوی صاحب سیڑھیوں پر آگے آگے تھے اور میں پیچھے پیچھے۔میں نے یہ بات سنی ہوئی تھی کہ بزرگوں کو خالی ہاتھ نہیں ملنا چاہئے۔میں نے پیچھے سیڑھیوں پر کھڑے ہو کر ایک روپیہ نکالا۔مولوی صاحب حضرت صاحب سے ملے۔حضرت صاحب نے مولوی صاحب کو کہا کہ جولڑ کا آپ کے پیچھے ہے اس کو بلاؤ۔میں جب حاضر ہوا تو حضور علیہ السلام کی بزرگ شان کا تصور کر کے میری چھینیں نکل گئیں۔حضرت صاحب میری پیٹھ پر بار بار