خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 799 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 799

خطبات مسر در جلد دہم 799 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 دسمبر 2012ء رہنمائی ہو رہی ہے۔یہ جو غیر احمدی کہتے ہیں ناں یا بعض لوگوں کا خیال ہے کہ بغیر سوچے سمجھے لوگ بیعت کر لیتے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی بڑے آرام سے بیعت لے لیا کرتے تھے۔آپ علیہ السلام تو ہر ایک کی حالت کے مطابق بیعت لیتے تھے جب تک یہ تسلی نہیں ہو جاتی تھی کہ اس شخص کی تسلی ہوگئی ہے۔بہر حال کہتے ہیں میں نے ایک خواب دیکھی۔) میں نے دیکھا کہ آسمان سے ایک نور نازل ہوا اور وہ میرے ایک کان سے داخل ہوا اور دوسرے کان سے تمام جسم سے ہوکر نکلتا ہے۔اور آسمان کی طرف جاتا ہے۔( یعنی یوں ہو کر نکل نہیں گیا بلکہ یہ داخل ہو کے سارے جسم میں سے گزرا پھر دوسری طرف سے نکل گیا اور پھر آسمان کی طرف چلا جاتا ہے ) اور پھر ایک طرف سے آتا ہے اور اس میں کئی قسم کے رنگ ہیں۔سبز ہے، سرخ ہے، نیلگوں ہے، اتنے ہیں کہ گنے نہیں جاسکتے۔قوسِ قزح کی طرح تھے اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ تمام دنیا روشن ہے اور اُس کے اندر اس قدر سرور اور راحت تھی کہ میں اس کو بیان نہیں کر سکتا۔مجھے صبح اُٹھتے ہی یہ معلوم ہوا کہ رویا کا مطلب یہ ہے۔اس خواب کا مطلب یہ ہے ) کہ آسمانی برکات سے مجھے وافر حصہ ملے گا اور مجھے بیعت کر لینی چاہئے۔اسی رؤیا کی بناء پر میں نے حضرت صاحب سے دوسرے روز ظہر کے وقت بیعت کے لئے عرض کیا مگر حضور نے منظور نہ فرمایا اور تین دن کی شرط کو برقرار رکھا۔چنانچہ تیسرے روز ظہر کے وقت میں نے عرض کیا کہ حضور! مجھے شرح صدر ہو گیا ہے اور اللہ میری بیعت قبول کر لیں۔(خدا کے واسطے بیعت قبول کر لیں۔چنانچہ حضور نے میری اپنے دست مبارک پر بیعت لی اور میں رخصت ہو کر لاہور آ گیا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ حضرت مسیح موعود رجسٹر نمبر 9 صفحہ 126-127 روایت حضرت منشی قاضی محبوب عالم صاحب) حضرت منشی قاضی محبوب عالم صاحب بیان فرماتے ہیں ( ان کا بیعت سن 1898ء ہے۔پہلے بھی انہی کی روایت تھی ) کہ لاہور میں ایک وکیل ہوتے تھے، ان کا نام کریم بخش تھا۔وہ بڑی مخش گالیاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام) کو کو دیا کرتے تھے۔ایک دن دوران بحث اُس نے کہا کہ کون کہتا ہے مسیح مر گیا ؟ میں نے جواباً کہا کہ میں ثابت کرتا ہوں کہ مسیج مر گیا۔اُس نے اچانک ایک تھپڑ بڑے زور سے مجھے مارا۔اس سے میرے ہوش پھر گئے اور میں گر گیا۔( یعنی بیہوشی کی کیفیت ہو گئی ) جب میں وہاں سے چلا آیا تو اگلی رات میں نے رویا میں دیکھا کہ کریم بخش ایک ٹوٹی ہوئی چار پائی پر پڑا ہے اور اُس کی چار پائی کے نیچے ایک گڑھا ہے اس میں وہ گر رہا ہے اور نہایت بے کسی کی حالت میں ہے۔صبح میں اُٹھ کر اُس کے پاس گیا اور میں نے اُسے کہا کہ مجھے رویا میں بتایا گیا ہے کہ تو ذلیل ہوگا۔چنانچہ تھوڑے عرصے کے بعد اس کی