خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 798 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 798

خطبات مسر در جلد دہم 798 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 28 دسمبر 2012ء اُس کے بعد پھر نظارے میں دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لاتے ہیں، مسجد میں داخل ہوتے ہیں ) میں بھی ساتھ جاتا ہوں، مسجد کی صفیں ٹیڑھی ہیں۔آپ ان صفوں کو درست کر رہے ہیں۔کہتے ہیں ہم اُس زمانے میں احمدی نہیں ہوئے تھے۔اُس زمانے میں اس بات کا عام چر چا تھا کہ مسلمان برباد ہو چکے ہیں اور تیرھویں صدی کا آخر ہے اور یہ وہ زمانہ ہے جس میں حضرت امام مہدی تشریف لائیں گے اور ان کے بعد حضرت عیسی بھی تشریف لائیں گے۔( مسلمانوں میں جو عام تصور پایا جاتا تھا کہ عیسی اور مہدی دو علیحدہ علیحد شخص ہیں۔کہتے ہیں کہ اس بات کا بڑا چر چاتھا۔چنانچہ حضرت والدہ صاحبہ اُس مہدی اور عیسی کی آمد کا ذکر بڑی خوشی سے کیا کرتی تھیں کہ وہ زمانہ قریب آ رہا ہے اور یہ بھی ذکر کیا کرتی تھیں کہ چاند گرہن اور سورج گرہن کا ہونا بھی حضرت مہدی کے زمانے کے لئے مخصوص تھا اور وہ ہو چکا ہے۔آگے لکھتے ہیں ممکن ہے کہ یہ خواہیں اس بچپن میں شنیدہ باتوں کے اثر کے ماتحت خواب کی صورت نظر آتی ہوں لیکن واقعات یہ بتلاتے ہیں کہ وہ مہدی اور مسیح کے آنے کا عام چر چا اور یہ خوا ہیں جو بڑوں چھوٹوں کو اُس زمانے میں آیا کرتی تھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی ہوا چلی تھی کہ بچوں اور بڑوں سب کو آیا کرتی تھیں۔) آنے والے واقعات کے لئے بطور آسمانی اطلاع کے تھیں۔(چنانچہ یہ پورا خاندان حضرت سید ڈاکٹر عبدالستار شاہ صاحب کا احمدی ہوا اور اخلاص و وفا میں بڑی ترقی کی۔) (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ حضرت مسیح موعود - رجسٹر نمبر 11 صفحہ 143-142 روایت حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب) حضرت منشی قاضی محبوب عالم صاحب جن کا بیعت کا سن 1898 ء کا ہے ، فرماتے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے مجھے فرمایا کہ آپ حامد علی کے ساتھ مہمان خانے میں جائیں اور ظہر کے وقت میں پھر ملاقات کروں گا۔( جب یہ وہاں پہنچے تو ان کو یہ کہا گیا) کہتے ہیں میں مہمان خانے چلا گیا وہاں کھانا آیا، ذرا آرام کیا۔ظہر کی اذان ہوئی۔مجھے پہلے ہی حامد علی صاحب نے فرمایا تھا کہ آپ پہلی صف میں جا کر بیٹھ جائیں۔چنانچہ میں اُسی ہدایت کے ماتحت پہلی صف میں ہی قبل از وقت جا بیٹھا۔حضور تشریف لائے ، نماز پڑھی گئی۔نماز کے بعد حضور میری طرف مخاطب ہوئے اور فرمایا کہ کب جانا چاہتے ہیں۔میں نے کہا حضور ! ایک دو روز ٹھہروں گا۔حضور نے فرمایا کہ کم از کم تین دن ٹھہر نا چاہئے۔دوسرے روز ظہر کے وقت میں نے بیعت کے لئے عرض کی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ ابھی نہیں، کم از کم کچھ عرصہ یہاں ٹھہریں۔ہمارے حالات سے آپ واقف ہوں۔اس کے بعد بیعت کر لیں۔مگر مجھے پہلی رات ہی مہمان خانے میں ایک رؤیا ہوئی جو یہ تھی۔( اب یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس خواب کے ذریعہ سے