خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 797 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 797

خطبات مسرور جلد دہم 797 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 دسمبر 2012ء حضرت میاں عبدالرشید صاحب ( ان کا سن بیعت 1897ء ہے ) بیان کرتے ہیں کہ مجھے بیعت کی تحریک حضرت والد صاحب کو تحریک اور ایک خواب کے ذریعہ سے ہوئی۔( کہتے ہیں ) میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا کہ حضور ایک چارپائی پر لیٹے ہیں اور بہت بیمار ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام آپ کے پاس کھڑے ہیں جیسے کسی بیار کی خبر گیری کرتے ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم چار پائی سے آپ کے کندھے کا سہارا دے کر کھڑے ہوئے۔اُس کے بعد اس حالت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لیکچر دینا شروع کر دیا جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کے متعلق بیان تھا اور اس کے بعد خواب میں دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تندرست ہو گئے ہیں اور آپ کا چہرہ پر رونق ہو گیا۔جس سے میں نے یہ تعبیر نکالی کہ اب اسلام حضرت صاحب ( یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام) کے ذریعہ سے دوبارہ زندہ ہو گا۔چنانچہ اس خواب کے بعد پھر میں نے بیعت کر لی۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ حضرت مسیح موعود۔رجسٹر نمبر 11 صفحہ 28۔از روایات حضرت میاں عبدالرشید صاحب) حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب بیان کرتے ہیں (ان کی بیعت 1903 ء کی ہے۔یہ حضرت اُم طاہر کے بھائی تھے ) کہ میری عمر سات آٹھ سال کی ہوگی ، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ گھر میں اس بات کا تذکرہ ہوا ( یعنی اُس زمانے میں سات آٹھ سال کے بچے کی بھی اللہ تعالی رہنمائی فرماتا تھا۔) کہتے ہیں گھر میں اس بات کا تذکرہ ہوا کہ کسی شخص نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور یہ کہ اس نے یہ خواب دیکھا ہے کہ کچھ فرشتے ہیں جو کالے کالے پودے لگا رہے ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ طاعون کے پودے ہیں اور دنیا میں طاعون پھیلے گی اور یہ کہ میری آمد کی بھی یہ نشانی ہے۔اس وقت ہم تحصیل رعیہ میں تھے۔والد صاحب وہاں شفا خانے کے انچارج ڈاکٹر تھے۔اسی عرصے کی بات ہے کہ میں نے ایک خواب دیکھا کہ کسی نے گھر میں آکر اطلاع دی کہ نانا جان آ رہے ہیں۔چنانچہ ہم باہر اُن کے استقبال کے لئے دوڑے۔شفا خانے کی فصیل (یعنی ہسپتال کی دیوار) کے مشرق کی جانب کیا دیکھتا ہوں کہ پہلی میں نانا جان سوار ہیں ،سبز عمامہ ہے اور بھاری چہرہ ہے۔رنگ بھی گندمی اور سفید ہے اور داڑھی بھی سفید ہے۔اور سورج نکلا ہوا ہے۔مجھے فرماتے ہیں کہ میں آپ کو قرآن پڑھانے کے لئے آیا ہوں۔اور انہی دنوں میں نے یہ خواب بھی دیکھا کہ رعیہ کی مسجد ہے اور اُس کے دروازے پر لا الهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله “ لکھا ہوا ہے لیکن جہاں تک مجھے یاد ہے ، اُس کے الفاظ مدھم تھے۔امام الزمان آتے ہیں۔مسجد میں داخل ہوتے ہیں، ( یہ نظارہ دیکھا کہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ لکھا ہے لیکن الفاظ مدھم ہیں۔