خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 781 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 781

خطبات مسر در جلد دہم 781 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 دسمبر 2012 ء بہر حال ان مختلف مواقع پر وہاں جو فنکشن ہوئے ، ان کے بارہ میں غیروں کے جو تاثرات ہیں وہ میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔بعض نے میرے متعلق بھی اظہار کیا ہے۔میں نے کوشش یہی کی ہے کہ جہاں تک میں اپنی باتوں کو نکال سکتا ہوں تو نکال دوں لیکن بعض جگہ ذکر آ بھی جائے گا۔لیکن مجھے پتہ ہے کہ جو باتیں میں نے کیں وہ اسلام کا پیغام ہے۔اگر اثر ہے تو اسلام کے پیغام کا ہے نہ کہ میری ذات کا۔بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نمائندگی میں جو بات میں کہوں گا اُس کا اثر ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے وعدہ ہے۔پہلا ایک تبصرہ یہ ہے کہ وہاں ایک بشپ آئے ہوئے تھے جو پریس کانفرنس میں بھی آگئے اور انہوں نے سوال بھی کر دیا۔ڈاکٹر ایمن ہاورڈ (Bishop Dr Amen Howard) جنیوا سوئٹزرلینڈ سے آئے تھے۔انٹر فیتھ انٹرنیشنل کے نمائندے ہیں۔یہ رفاہی تنظیم فیڈ اے فیملی (Feed a Family) کے بانی صدر بھی ہیں۔ان کو دعوت نامہ دیا گیا تھا۔ایک دن پہلے یہ برف میں پھسل گئے تھے اور ان کی آنکھ بھی سوج گئی تھی۔کافی چوٹ لگی تھی لیکن پھر بھی انہوں نے کہا کہ اس فنکشن میں میں نے ضرور شامل ہونا ہے۔انہوں نے برسلز کا سفر اختیار کیا۔وہ لکھتے ہیں کہ یہ جو تقریر ہوئی، اس کے جو الفاظ تھے اُن کا جادو کا سا اثر تھا۔پھر میرے بارے میں لکھتے ہیں کہ لہجہ دھیما تھا لیکن منہ سے نکلنے والے الفاظ اپنے اندرغیر معمولی طاقت اور شوکت رکھتے ہیں۔اس طرح کا جرات مند انسان میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا۔بہر حال یہ وہ الفاظ تھے جو اسلام کی خوبیاں سن کر انہوں نے کہے۔پھر سوئٹزر لینڈ سے آئے ہوئے جاپانی بدھ ازم کے نمائندے جارج کو ہومیلو (Jorge Koho Mello) نے ، جو راہب بھی ہیں، اپنے ساتھیوں کو جو اُن کو لے کر آئے تھے کہے۔وہ کہتے ہیں کہ آپ نے اس اہم لیکچر میں شامل ہونے کے لئے مجھے دعوت دی اور اس میں شامل ہونا اور خلیفہ سے ملنا میرے لئے ایک بہت بڑی سعادت ہے اور میرے قیمتی لمحات ہیں جن کو میں کبھی فراموش نہیں کرسکتا۔یہاں مجھے دوسرے ممالک کے اہل علم لوگوں سے ملنے کا بھی موقع ملا جس کے لئے میں مشکور ہوں۔آنریبل Fouad Aidar ممبر بیلجیئم نیشنل پارلیمنٹ نے بر ملا اس بات کا اظہار بھی کیا۔یہ ہمارے پرانے واقف بھی ہیں، بلکہ ایک رات پہلے مجھے ملے تھے تو میں نے ان کو کہا تھا کہ اب کافی پرانی واقفیت ہو چکی ہے۔اب آپ کو بیعت کر لینی چاہئے ) بہر حال یہ مسلمان ہیں، مراکو وغیرہ کہیں سے ان کا تعلق ہے۔کافی عرصے سے وہاں رہ رہے ہیں یا شاید ان کے والدین یہاں آئے تھے۔اور اس وقت