خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 768 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 768

خطبات مسرور جلد دہم 768 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 دسمبر 2012ء تعلق کو پختہ کرنا ہے، خدا تعالیٰ کی کیونکہ ہر اچھے اور برے فعل پر ، ہر عمل پر نظر ہے اور میری یہ بری عادت یا بد اعمال خدا تعالیٰ کی ناراضگی کے موجب ہو سکتے ہیں۔تو پھر یہ بات نہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے کو برائیوں سے روکے گی بلکہ نیکیوں کی طرف بھی متوجہ کرے گی۔خدا تعالیٰ پر ایمان اور یقین میں پختگی پیدا ہوگی اور یہی ایک انسان کی زندگی کا مقصد ہے، ایک مومن کی زندگی کا مقصد ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مزید فرماتے ہیں کہ : عام لوگ تو شہید کے لئے اتنا ہی سمجھ بیٹھے ہیں کہ شہید وہ ہوتا ہے جو تیر یا بندوق سے مارا جائے یا کسی اور اتفاقی موت سے مرجائے“۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 253۔ایڈیشن 2003، مطبوعہ ربوہ ) یہاں ایک حدیث بھی بیان کر دیتا ہوں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جن مرنے والوں کو شہداء کے زمرہ میں شامل کیا گیا ہے، وہ پانچ ہیں۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، شہید پانچ قسم کے ہوتے ہیں۔وبا میں ہلاک ہونے والا، پیٹ کی بیماری سے ہلاک ہونے والا، ڈوب کر مرنے والا، کسی عمارت کی چھت وغیرہ کے نیچے دب کر ہلاک ہونے والا اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جان دینے والا۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے صرف یہی نہیں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک شہادت کا یہی مقام نہیں ہے۔یعنی یہ تو ظاہری موت کی وجہ سے شہادت ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک شہادت کے اور بھی مقام ہیں جو ہر مومن کو تلاش کرنے چاہئیں۔بلکہ آپ نے فرمایا کہ میرے نزدیک شہید کی حقیقت قطع نظر اس کے کہ اس کا جسم کاٹا جائے کچھ اور بھی ہے۔اور وہ ایک کیفیت ہے جس کا تعلق دل سے ہے۔یادرکھو کہ صدیق نبی سے ایک قرب رکھتا ہے۔( شروع میں میں نے بتایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ دعا کرو کہ وہ لوگ جو عمل صالح کرنے والے ہیں، اللہ اور اُس کے رسول کی اطاعت کرنے والے ہیں، وہ نبی ہوتے ہیں یا صدیق یا شہید یا صالحین۔تو فرمایا کہ) یا درکھو کہ صدیق نبی سے ایک قرب رکھتا ہے اور وہ اس سے دوسرے درجے پر ہوتا ہے۔اور شہید صدیق کا ہمسایہ ہوتا ہے۔نبی میں تو سارے کمالات ہوتے ہیں، یعنی وہ صدیق بھی ہوتا ہے اور شہید بھی ہوتا ہے اور صالح بھی ہوتا ہے۔لیکن صدیق اور شہید دو الگ الگ مقام ہیں۔اس بحث کی بھی حاجت نہیں کہ آیا صدیق ، شہید ہوتا ہے یا نہیں؟ وہ مقام کمال جہاں ہر ایک امر خارق عادت اور معجزہ سمجھا جاتا ہے، وہ ان دونوں مقاموں پر اپنے رتبہ اور درجہ کے لحاظ سے جدا ہے۔اس لیے اللہ تعالیٰ اُسے ایسی قوت عطا کرتا ہے کہ جو عمدہ اعمال ہیں اور جو عمدہ اخلاق (صحیح بخاری کتاب الاذان باب فضل التهجير الى الظهر (653)