خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 759 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 759

خطبات مسر در جلد دہم 759 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 7 دسمبر 2012 ء اور وہ نہایت ہی خوشگوار ہے اور اس پر میری آنکھ کھل گئی۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ (غیر مطبوعہ ) جلد 7 صفحہ 235-236 روایت حضرت محمد فاضل صاحب) ย حضرت حافظ جمال احمد صاحب فرماتے ہیں جنہوں نے 1908ء میں مئی میں زیارت کی تھی کہ میری اہلیہ مرحومہ نے بیان کیا کہ میرے دل میں ایک وسوسہ پیدا ہوا کہ پیر تو اور بھی بہت ہیں پھر ہم حضرت صاحب کو سچا اور دوسروں کو جھوٹا کیوں کہتے ہیں؟ ( کہ صرف سچے پیر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہی ہیں اور دوسرے سب غلط ہیں ) کہتی ہیں کہ رات کو خواب میں دیکھا کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صاحب کا بازو پکڑ کر فرمایا کہ جو ان کو قبول نہیں کرتا وہ کافر ہے۔میری اہلیہ مرحومہ کا گھرانہ پہلے سید احمد رضا خان بریلوی کا مرید تھا۔اُس کے بعد سے پھر اُن کو تسلی ہو گئی۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ (غیر مطبوعہ ) جلد 7 صفحہ 251 روایت حضرت محمد فاضل صاحب) حضرت میاں محمد ظہور الدین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جن کی بیعت 1905ء کی ہے، لکھتے ہیں کہ میرے خسر قاضی زین العابدین صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوئی سے پہلے حضرت منشی احمد جان صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت کئے ہوئے تھے۔حضرت منشی احمد جان صاحب لدھیانوی کے فوت ہونے کے بعد مکرمی معظمی قاضی زین العابدین صاحب نے کئی بار حضرت مجددالف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پر جا کر کشف قبور کے طریق پر مراقبہ کیا۔ایک روز حضرت مجدد الف ثانی کی آپ کو زیارت ہوئی۔انہوں نے دریافت کیا کہ کیوں کیا چاہتے ہو؟ قاضی صاحب نے عرض کیا کہ یاد الہی ! میرے مرشد فوت ہو گئے ہیں۔اتنا لفظ سن کر حضرت مجددالف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کی صورت غائب ہوگئی۔پھر قاضی صاحب وہاں سے واپس آگئے۔پھر دو تین روز گئے، ویسا ہی عمل کیا، مراقبہ کیا، قبر پر بیٹھ کر دعا کی۔پہلے کی طرح پھر حضرت مجددالف ثانی کی شکل سامنے آئی اور دریافت کیا کہ کیا چاہتے ہو؟ پھر قاضی صاحب نے عرض کیا کہ یادِ الہی ! ( یعنی اللہ تعالیٰ سے تعلق ) اور ساتھ لگتے ہی عرض کی ، اس کے ساتھ ہی کہتے ہیں میں نے اُن کو عرض کیا کہ کیا میں مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے پاس جاؤں۔حضرت مجدد صاحب نے فرمایا کہ وہاں تمہاری تسلی نہ ہوگی۔اتنا کہہ کر وہ شکل پھر غائب ہوگئی۔پھر کچھ دن کے بعد قاضی صاحب قادیان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں جا کر رہے۔فرماتے تھے کہ جو مزہ حضرت منشی احمد جان صاحب کی مجلس میں ہمیں ملتا تھاوہ قادیان میں میسر نہ تھا۔وہاں کچھ اُن کو پہلے جو عادت تھی، کہتے ہیں مجھے مزہ نہیں آیا۔حضرت مجددالف ثانی صاحب کے فرمانے کے مطابق ہماری تسلی نہ ہوتی تھی۔خیر کئی بار قادیان جا کر ہفتہ ہفتہ رہ کر آتا تھا۔حضرت منشی احمد جان صاحب وہ بزرگ ہستی ہیں کہ جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام