خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 70 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 70

خطبات مسرور جلد دہم 70 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 3 فروری 2012ء ہوں گے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تقویٰ پر قائم رہے تو اس دنیا کے انعامات بھی حاصل کرو گے اور اخروی زندگی کے بھی۔پس یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ متقی اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے جب کوئی عمل کرتا ہے تو دنیا و آخرت کی حسنات اُسے ملتی ہیں۔جیسا کہ میں نے پہلے بتایا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر اعمالِ صالحہ بجالانے والے متقی ہیں۔یہ ایک بہت ضروری چیز ہے کہ ایسے نیک اعمال بجالانے والے، صالح اعمال بجالانے والے جو اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر انہیں بجالاتے ہیں وہی ہیں جو تقویٰ پر چلنے والے ہیں۔کئی دوسرے لوگ بھی ہیں جو نیکیاں کر جاتے ہیں، نیک عمل کرتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ کی خاطر نہیں کرتے۔اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کے لئے نہیں کرتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے متقی کی جو تعریف بیان فرمائی ہے اس کے مطابق ہر بڑے اور چھوٹے گناہ سے بچنا ضروری ہے اور نہ صرف برائیوں سے بچنا ضروری ہے بلکہ نیکیوں میں اور اعلیٰ اخلاق میں ترقی کرنا بھی ضروری ہے اور پھر خدا تعالیٰ سے کیچی وفا کا تعلق بھی ضروری ہے۔یہ چیزیں ہوں گی تو ایک شخص متقی کہلا سکتا ہے۔اور خدا تعالیٰ سے سچی وفا کیا ہے؟ یہی کہ اُس کی عبادت کا حق ادا کرنے کی کوشش کی جائے اور حتی المقدور خدا تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے کے لئے اپنی تمام تر کوششوں کو بروئے کار لایا جائے اور جب یہ حالت ہوگی تو پھر اللہ تعالیٰ نے اسی آیت میں تقویٰ سے آگے کے قدم کا ذکر فرمایا ہے۔فرمایا۔وَالَّذِينَ هُمْ مُحْسِنُونَ محسن کا مطلب ہے۔کسی کو انعام دینا۔بغیر کسی کی کوشش کے اُس کو نواز نا یا کسی سے اچھا سلوک کرنا۔ایسے جو نواز نے والے ہوتے ہیں وہ محسن کہلاتے ہیں۔پھر محسن کا یہ مطلب بھی ہے کہ انسان کا اپنے کام میں کمال درجے کو حاصل کرنا۔اپنے کام کا اچھا علم حاصل کرنا اور ہر عمل ایسا جو موقع اور محل کے لحاظ سے بہترین ہو۔گویا محسن دو طرح کے ہیں۔ایک وہ جو دوسروں کے لئے در در کھتے ہوئے اُن کی خدمت پر ہر وقت تیار رہتے ہیں۔قطع نظر اس کے کہ کوئی کس مذہب اور فرقے سے تعلق رکھتا ہے، کون کس قوم کا ہے؟ اُس کی خدمت پر مامور ہیں ، کوشش ہوتی ہے کہ ہم انسانیت کی خدمت کریں۔اور پھر یہ بھی کہ وقت پڑنے پر دوسرے کے کام آکر اُس کی خدمت میں اس حد تک بڑھ جائیں کہ جس حد تک آسانیاں پیدا کر سکتے ہیں دوسرے کے لئے کی جائیں۔پس ہر احمدی کا فرض ہے کہ اس جذبے کے تحت اُسے انسانیت کی خدمت کرنی چاہئے۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت سے احمدی ہیں جو اس جذبے کے تحت خدمت کرتے ہیں، کام کرتے ہیں۔بیشک وہ محسن تو ہوتے ہیں لیکن احسان جتانے والے نہیں ہوتے۔محسن وہ نہیں جو احسان کر کے احسان جتائے۔