خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 745
خطبات مسرور جلد دہم 745 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 نومبر 2012ء تقریباً اڑتیس (38) دن آپ زیر علاج رہے اور آخر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے (اور ان کے زخم مزید خراب بھی ہو گئے تھے ) 27 نومبر کو منگل کے دن رات گیارہ بجے اپنے مالک حقیقی سے جاملے اور شہادت کا رتبہ پایا۔إِنَّا لِله وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ - شهید مرحوم اللہ کے فضل سے موصی تھے اور آپ کو خدمت دین کا بیحد شوق تھا۔منڈی بہاؤالدین میں قیام کے دوران آپ کو بطور سیکرٹری رشتہ ناطہ، سیکرٹری دعوت الی اللہ اور دیگر مختلف عہدہ جات پر خدمت کی توفیق ملی۔2008ء میں امریکہ شفٹ ہونے کے بعد لانگ آئی لینڈ، نیویارک امریکہ میں آپ کو بطور سیکرٹری تربیت خدمت کی توفیق مل رہی تھی۔مرحوم انتہائی مخلص اور ایماندار شخصیت کے مالک تھے۔جہاں کام کرتے تھے وہاں سے ان کو ایک دفعہ آنسٹی (Honesty) ایوارڈ بھی ملا تھا۔خلافت سے گہرا تعلق تھا۔تمام تحریکات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔دعوت الی اللہ کے پروگرام میں اگر خود نہ شامل ہو سکتے تو پھر دوسروں کو جانے کے لئے اپنی گاڑی دے دیا کرتے تھے تا کہ ثواب میں شامل ہو سکیں۔آپ کے بیٹے کا شف احمد دانش آپ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کو ایک بہت ہی شفیق اور محبت کرنے والے شخص کے طور پر پایا۔بچپن سے لے کر جوانی تک ہمیشہ اولاد کا بہت زیادہ خیال رکھا۔تعلیم دلوانے کے لئے اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کی تربیت کے لئے ہمیشہ کوشش کرتے رہے۔زبان بہت اعلی اور لجہ ہمیشہ نرم ہوتا تھا۔کبھی بھی بچوں کو تم کہہ کر مخاطب نہیں کیا بلکہ آپ کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔ان کے بیٹے کہتے ہیں کہ میری جماعت کے کاموں میں دلچسپی کو بہت سراہتے تھے اور خلافت احمدیہ کے ساتھ ایک مضبوط تعلق کی تلقین کرتے تھے۔گھر آ کر سب سے پہلے اپنے بچوں کو نماز کے بارے میں پوچھتے تھے۔اگر کسی وجہ سے نہ پڑھی ہوتی تو فورا ادا ئیگی کے لئے کہتے۔بچپن میں اپنے ساتھ باجماعت نماز کے لئے لے جاتے۔کام کے دوران سفر پر، کسی بھی جگہ پر ہوتے نماز کا خاص التزام کرتے۔کسی سے سخت لہجے میں گفتگو نہیں کی۔ہمیشہ اخلاقیات کا درس دیتے۔ہر کوئی آپ کی نرم گو اور ملنسار طبیعت کی وجہ سے جلد آپ کا گرویدہ ہو جا تا۔مرحوم کی اہلیہ محترمہ اس وقت امریکہ میں مقیم ہیں ، یہ بھی آئی ہوئی تھیں یہاں لیکن بعد میں بیمار ہو گئیں تو چلی گئیں، اُن کا بھی وہاں علاج ہو رہا ہے، اُن کے لئے دعا کریں اللہ تعالیٰ اُن کو بھی شفا عطا فرمائے۔اور آپ کا بیٹا کا شف احمد دانش کینیڈا میں مقیم ہے اور وہاں بطور نائب صدر خدام الاحمدیہ کینیڈا خدمت کی تو فیق پارہے ہیں۔مرحوم کی تین بیٹیاں ہیں۔سے چھوٹی بیٹی سعد فاروق شہید کی بیوہ ہے۔محمد میر شمس صاحب بیان کرتے ہیں ( یہ قریباً گیارہ سال منڈی بہاؤالدین میں مربی رہے ہیں ) کہتے ہیں کہ ان کے ساتھ گیارہ سال بطور مر بی ضلع کام کرنے کی توفیق ملی۔