خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 744 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 744

خطبات مسر در جلد دہم 744 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 نومبر 2012 ء تو اس طرح بھی اللہ تعالیٰ لوگوں کی بیعتیں کرواتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ہمارا تبلیغ کا بہت سارا کام تو فرشتے کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان تمام صحابہ کے درجات بلند فرماتا چلا جائے اور ان کی نسلوں کو بھی اپنے بزرگوں کی نیکیوں کو قائم رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔اس وقت میں ایک شہید کا بھی ذکر کرنا چاہتا ہوں اور ان کا جنازہ بھی انشاء اللہ تعالیٰ جمعہ کی نماز کے بعد پڑھاؤں گا جو مکرم و محترم چوہدری نصرت محمود صاحب ابن مکرم چو ہدری منظور احمد صاحب گوندل ہیں۔ان کا خاندانی تعارف یہ ہے کہ آپ کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ حضرت چوہدری عنایت اللہ صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے صحابی تھے، کے ذریعہ سے ہوا جو شہید مرحوم کے دادا مکرم چوہدری اخلاص احمد صاحب کے کزن تھے۔بعد میں اُن کی کوششوں سے چوہدری اخلاص احمد صاحب نے بھی خلافت اولی میں بیعت کی تھی۔آپ کے خاندان کا تعلق بہلول پورضلع سیالکوٹ سے تھا۔چوہدری نصرت صاحب بڑا لمبا عرصہ قریباً تیس سال منڈی بہاؤالدین رہے اور 2008ء میں اپنی اہلیہ اور چھوٹی بیٹی کے ساتھ لانگ آئی لینڈ نیو یارک امریکہ میں چلے گئے۔وہاں شہریت اختیار کر لی۔نصرت محمود صاحب چھ مارچ 1949ء کو بہلول پور ضلع سیالکوٹ میں پیدا ہوئے تھے۔پھر مرے کالج سیالکوٹ سے گریجوایشن کیا۔پھر شاہ تاج شوگر مل منڈی بہاؤالدین میں ملازمت کی۔تقریباً 35 سال وہاں بطور مینیجر کام کیا۔پھر جیسا کہ میں نے بتایا آپ امریکہ شفٹ ہو گئے۔یہ تمبر میں اپنی چھوٹی صاحبزادی شائزہ محمودہ صاحبہ کی شادی کے سلسلے میں امریکہ سے پاکستان آئے تھے۔5 اکتوبر 2012 ء کو شائزہ محمودہ صاحبہ کی شادی سعد فاروق صاحب شہید کے ساتھ ہوئی ، جن کو شادی کے تیسرے دن شہید کر دیا گیا تھا جو فاروق احمد صاحب کاہلوں کے بیٹے تھے۔اور 19 اکتوبر کو جمعہ کے دن سعد فاروق صاحب شہید ہوئے۔جیسا کہ میں نے سعد فاروق کے جنازے پر بھی بتایا تھا ان کے سدھی محترم فاروق احمد کا ہلوں صاحب اور چند دیگر افراد خاندان کے ساتھ یہ لوگ بیت الحمد بلدیہ ٹاؤن سے نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد گھر واپس آ رہے تھے کہ نامعلوم افراد نے آپ لوگوں پر فائرنگ کر دی۔سعد فاروق صاحب تو جو موٹر سائیکل پر تھے موقع پر شہید ہو گئے، دوتین ہفتہ پہلے اُن کا جنازہ پڑھا گیا تھا۔دیگر دو افراد زخمی ہوئے تھے۔ایک گولی آپ کی گردن میں لگی اور دو گولیاں آپ کے، چوہدری نصرت محمود صاحب کے سینے پر لگی تھیں۔فوری طور پر آپ کو ہسپتال لے جایا گیا اور وہاں سے پہلے عباسی شہید ہسپتال پھر آغا خان میں شفٹ کیا گیا۔