خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 69 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 69

خطبات مسرور جلد دہم 69 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 3 فروری 2012 ء حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب سندھ میں زمینیں آباد کیں تو نگرانی کے لئے شروع شروع میں بعض بزرگوں کو بھی بھیجا۔اُن میں ایک حضرت مولوی قدرت اللہ صاحب سنوری تھے۔ایک دفعہ پہلے بھی میں بیان کر چکا ہوں کہ ایک دفعہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ دورہ پر تشریف لے گئے۔کپاس کی فصل دیکھ رہے تھے تو انہوں نے حضرت مولوی صاحب سے پوچھا، یہ صحابی بھی تھے کہ کیا اندازہ ہے، اس میں سے کتنی فصل نکل آئے گی۔انہوں نے اپنا جواندازہ بتا یاوہ، حضرت مرزا بشیر احمد صاحب وغیرہ جو ساتھ تھے، اُن کے خیال میں یہ غلط تھا۔تو وہ یا غالباً درد صاحب دونوں باتیں کرنے لگے کہ حضرت مولوی صاحب کچھ زیادہ اندازہ بتا رہے ہیں۔حضرت مولوی صاحب نے اُن کی باتیں سُن لیں۔انہوں نے کہا کہ میاں صاحب! جو اندازہ میں بتا رہا ہوں انشاء اللہ تعالیٰ کم از کم اتنا ضرور نکلے گا کیونکہ میں نے ان کھیتوں کے چاروں کونوں پر نفل ادا کئے ہوئے ہیں۔مجھے اس بات پر یقین ہے کہ میرے نفل اس پیداوار کو بڑھائیں گے۔چنانچہ اتنی پیداوار نکلی۔(ماخوذ از سیرت احمد از حضرت قدرت اللہ صاحب سنوری صفحہ 2 مطبوعہ ضیاء الاسلام پریس ربوہ 1962) تو اللہ تعالیٰ ایک ہی طرح کے موسمی حالات میں، ایک ہی طرح کے فصلوں میں جو ان پٹس (Inputs) ڈالے جاتے ہیں ، جو کھاد، بیچ وغیرہ چیزیں ڈالی جاتی ہیں، اُن کے باوجود دعاؤں کے طفیل اپنے ہونے کا ثبوت دیتا ہے اور پیداوار میں اضافہ کرتا ہے۔دنیا کے معاملات میں بھی ایک متقی کو اللہ تعالیٰ کی معیت کا ثبوت مل جاتا ہے۔لیکن اس ماڈی دنیا کے علاوہ خدا تعالیٰ پر یقین رکھنے والے، اُس پر کامل ایمان رکھنے والے شخص کی ایک روحانی دنیا بھی ہے جس کے فائدے، جس کی لذات دنیا والوں کو نظر نہیں آتیں اور نہ آسکتی ہیں۔ان لوگوں کی سوچ بہت بلند ہوتی ہے جو تقویٰ پر چلنے والے ہیں۔وہ اس دنیا سے آگے جا کر بھی سوچتے ہیں۔غیب پر ایمان لاتے ہیں۔آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔خدا تعالیٰ کے وعدوں پر کامل ایمان اور یقین ہوتا ہے۔جب دعا کے لئے ہاتھ اُٹھاتے ہیں تو قبولیت کے نشان دیکھتے ہیں۔اس زمانے میں خدا تعالیٰ سے یہ سچا تعلق جوڑنے کے یہ طریق اور اسلوب ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سکھائے۔بہت سے احمدی ہیں جو اللہ تعالیٰ سے اپنے تعلق کا تجربہ رکھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ سے بچے تعلق کی وجہ سے خواب، رؤیا، کشف وغیرہ کی صورت میں اللہ تعالیٰ انہیں بتاتا ہے کہ اس طرح ہوگا اور اس طرح بالکل ویسے ہو جاتا ہے۔پھر اس معیت کا یہ مطلب بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مرنے کے بعد کی زندگی کے انعامات کے جو وعدے فرمائے ہیں وہ بھی پورے