خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 743 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 743

خطبات مسر در جلد دہم 743 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 30 نومبر 2012ء پھر تیسرا خواب آیا اور وہ یہ تھا کہ خواب میں حضرت مرزا صاحب مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام میرے پاس آ کر بیٹھ گئے اور میں اُٹھ کر واسطے تعظیم کے جو گدی نشینوں میں دستور ہے، پاؤں چومنے کے لئے اپنے سر کو جھکایا۔لیکن حضرت صاحب نے مجھ کو اپنے دست مبارک سے روک دیا اور فرمایا یہ شرک ہے۔پھر آپ نے فرمایا کہ دیکھو میاں فضل دین ! تم نے خدا سے بذریعہ دعا نشان مانگا تھا کہ اگر مجھ کو ظاہری یا خواب کے ذریعہ سے نشان نہ دیا گیا تو قیامت کو مجھ پر خداوند بندہ تیری حجت نہیں ہوگی کہ تم نے مسیح موعود کو کیوں نہیں مانا۔پس اب تم کو نشان مل گیا اور تم پر حجت قائم ہو گئی۔اتنی ہی بات کہہ کر آپ چل دیئے اور میں خواب سے بیدار ہوکر رونے لگا اور اتنا رویا کہ آنسوؤں سے میرا گریبان تر بتر ہو گیا۔اور اُسی وقت میں بغیر اطلاع بابو صاحب قادیان کو ننگے پاؤں اُٹھ کے بھا گا ( جوتی بھی نہیں پہنی ) ایک شخص جو مجھ کو بھا گتا دیکھ رہا تھا اُس نے بابو صاحب کو جا کر کہہ دیا کہ مستری صاحب اپنے گاؤں کو بھا گا جاتا ہے۔اُسی وقت بابو صاحب گھوڑی پر سوار ہوکر میرے پیچھے بھاگے اور مجھ کو ہر چوال نہر کے پل پر پکڑ لیا اور کہنے لگے کہ آپ کو کیا ہو گیا ہے کہ بغیر اجازت اپنے گاؤں کو بھاگے جارہے ہو ، خیر ہے؟ میں نے کہا کہ مجھ کو چھوڑ دو میں قادیان جا رہا ہوں ، گاؤں نہیں جا ر ہا۔پس قادیان کا نام سن کو وہ آگ بگولہ ہو گیا کیونکہ وہ بھی مخالف تھا اور اب تک بھی مخالف ہی ہے۔غرض وہ چھوڑتا نہیں تھا اور میں اصرار کر رہا تھا اور میں نے عاجزی سے کہا کہ بابوصاحب! مجھ کو جانے دوورنہ میں یہاں ہی دم دے دوں گا ( جان دے دوں گا۔) کیونکہ یہ میرے بس کی بات نہیں ہے۔ایک زور آور ہستی مجھ کو جبراً لے جا رہی ہے اور میں اقرار کرتا ہوں کہ تیسرے دن کے بعد حاضر خدمت ہو جاؤں گا۔خیر اُس نے مجھے چھوڑ دیا اور میں دل میں کہتا تھا کہ مرزا صاحب سچے ہیں کہ میرے دل کی بات انہوں نے بتادی کہ تم پر حجت قائم ہو گئی۔پس میں قادیان میں آ گیا اور اب جہاں بکڈپو کا دفتر ہے اُس کے پیچھے پریس ہوتا تھا۔کنوئیں کے پاس ، وہاں مرزا اسماعیل پریس میں کام کرتا تھا۔اُس سے کہا کہ میں نے مرزا صاحب کو ملنا ہے۔اُس نے کہا کہ نماز ظہر کے وقت مسجد مبارک میں آپ تشریف لاتے ہیں، وہاں پر آپ ملاقات کریں۔اُس دن آپ ظہر کے وقت تشریف نہ لائے اور مغرب کے وقت آپ تشریف فرما ہوئے اور میں دیدار سے مشرف ہوا اور عرض کی حضور ! میں نے بیعت کرنی ہے۔حضور نے کہا کہ تیسرے دن کے بعد بیعت لی جائے گی۔القصہ میں تین دن تک رہا اور تیسرے دن میں نے اور میر قاسم علی صاحب ایڈیٹر فاروق اور تیسرا اور آدمی تھا جس کا مجھے نام معلوم نہیں ،شاید مولوی سرور شاہ صاحب ہوں گے، تینوں نے بیعت کی اور سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہو گئے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 7 صفحہ 16 تا 22 روایت حضرت فضل دین صاحب)