خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 742 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 742

خطبات مسرور جلد و هم 742 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 نومبر 2012ء نے سمجھا کہ یہ اب خود ہی بیعت کر لے گا۔جس وقت ہم قادیان کو چلے تھے، اُس وقت ہم چار آدمی تھے، ایک ہم اور دوسرے مولوی صاحب، تیسرے وہی جو خواب میں ہمارے ساتھ تھا، چوتھا ایک شخص کمہار تھا جو بغرض بیعت آیا تھا۔الغرض خطبہ مولوی عبد الکریم صاحب نے پڑھا اور اغلب ہے کہ جمعہ بھی انہوں نے پڑھایا۔لہذا بعد نماز جمعہ آوازہ ہوا کہ جس نے بیعت کرنی ہے وہ آ کر بیعت کر لے۔چنانچہ بہت سے لوگ اُس دن بیعت کے لئے آگے ہوئے جن میں سے ہمارا ساتھی وہ چوتھا کمہار بھی تھا۔جس وقت ہم بیعت کرنے کے واسطے چلے تو ہمارے ساتھی نے جو خواب میں بھی ہمارے ساتھ تھا، بیعت کرنے سے مجھ کو روکا اور یہ وسوسہ ڈال دیا کہ تم مرزا صاحب کی کتابیں دیکھتے رہے ہو، چونکہ وہی خیالات مجسم ہو کر تم کو خواب میں نظر آئے ہیں اور کچھ نہیں۔باقی خواب تمہاری غلط ہے۔وسوسہ ڈالا اُس نے۔کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ دھو کہ ہے اور میں دماغ کا کمزور تھا۔کہتے ہیں میں دماغ کا کمزور تھا، یعنی باتوں میں آنے والا تھا، اس واسطے اس نے مجھ کو بیعت کرنے سے روکا۔لہذا اگلے روز علی الصبح ہی ہم چار آدمی قادیان سے اپنے گاؤں کی طرف روانہ ہو گئے۔جس وقت ہم لوگ بٹالہ سے آگے جو سڑک علی وال کو جاتی ہے اُس پر ایک گاؤں مولے والی کے برابر پہنچے تو پھر مولوی صاحب نے مجھ سے پوچھا کہ تم نے بیعت کر لی ہے؟ تو میں نے جواب دیا: نہیں۔انہوں نے کہا کیوں نہیں کی۔جب تم کو تمہاری خواب کے مطابق سب کچھ پورا ہو گیا پھر تم نے بیعت کیوں نہ کی۔میں نے جواب میں کہا کہ اس شخص نے مجھ کو روک دیا ہے اور کہا کہ تم کتابیں مرزا صاحب کی دیکھتے رہے ہو، وہی خیالات مجسم ہو کر تمہارے رو برو خواب میں آگئے ہیں۔بس اور کچھ نہیں ہے۔پس یہ سنتے ہی مولوی صاحب ہم سے اور اُس شخص سے جو اُن کا چا زاد بھائی تھا سخت ناراض ہو گئے اور مجھ سے کہنے لگے بس اب ہمارا تمہارا کوئی تعلق استادی شاگردی یا رشتہ داری کا نہیں رہا۔لہذا ہم عصر کی نماز کے وقت اپنے گاؤں پہنچے۔اُس کے بعد میں چار پانچ دن گاؤں میں رہا لیکن مولوی صاحب ہم سے ناراض ہی رہے۔اتفاقاً موضع بھانبڑی سے مجھ کو بابو جان محمد کا خط آیا کہ میں تبدیل ہو کر کوٹھی نہر ہر چوال میں آ گیا ہوں اور میرے پاس کام بہت ہے اور میں نے سنا ہے کہ آپ نوکری چھوڑ کر آ گئے ہیں۔لہذا خط دیکھتے ہی موضع بھانبڑی یا کوٹھی ہر چوال میں ضرور بالضرور آ جائیں۔خیر میرا بھی دل اُداس تھا۔میں خط کے اگلے دن بمقام کوٹھی ہر چوال ( ہر چوال نہر کا جو بنگلہ ہوتا ہے ) وہاں براستہ قادیان پہنچ گیا ، اور بابو صاحب بخندہ پیشانی خاطر تواضع سے پیش آئے۔اگلے روز میرے سپر د کام کیا گیا اور میں مصروف ہو گیا۔جب تیسرا دن ہوا تو مجھ کو