خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 725 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 725

خطبات مسرور جلد دہم 725 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 نومبر 2012ء " تب ایک جانی عزیز جس کا وجود محبت اور ایمان سے خمیر کیا گیا تھا، جانبازی کے طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر باشارہ نبوی اس غرض سے منہ چھپا کر لیٹ رہا کہ تا مخالفوں کے جاسوس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نکل جانے کی کچھ تفتیش نہ کریں اور اُسی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ کر قتل کرنے کے لئے ٹھہرے رہیں۔“ فارسی میں آپ فرماتے ہیں کہ دو کس بہر کسے سرند بد جان نفشاند عشق است که این کار بصد صدق کناند سرمه چشم آریہ۔روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 65 حاشیہ) یعنی کوئی کسی کے لئے سر نہیں کٹوا تا، نہ جان دیتا ہے۔یہ عشق ہی ہے جو یہ کام بہت شوق اور خلوص سے کرواتا ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حضرت علی اور حضرت حسین سے اپنی مشابہت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : ” مجھے علی اور حسین سے ایک لطیف مشابہت ہے اور اس بھید کو مشرق اور مغرب کے رب کے سوا کوئی نہیں جانتا۔اور یقیناً میں علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور آپ کے دونوں بیٹوں سے محبت رکھتا ہوں اور اُس سے دشمنی کرتا ہوں جو ان دونوں سے دشمنی رکھتا ہے۔“ ( سر الخلافۃ۔روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 359) پھر آپ حضرت حسن اور حضرت حسین کے بارے میں کہ دونوں کے اپنے اپنے کارنامے تھے، کام تھے اور اپنا ایک مقام تھا ، اُن کے بارے میں فرماتے ہیں کہ : حضرت حسن نے میری دانست میں بہت اچھا کام کیا کہ خلافت سے الگ ہو گئے۔پہلے ہی ہزاروں خون ہو چکے تھے۔انہوں نے پسند نہ کیا کہ اور خون ہوں اس لیے معاویہ سے گزارہ لے لیا۔چونکہ حضرت حسن کے اس فعل سے شیعہ پر زد ہوتی ہے اس لیے امام حسن پر پورے راضی نہیں ہوئے“۔(اگر شیعہ حضرت علی کی اولا دہی کے بارے میں کہتے ہیں تو حضرت حسن کے بارے میں اتنا زیادہ غلو سے کام نہیں لیا جاتا جتنا حضرت حسین کے بارے میں لیا جاتا ہے۔اسی لئے فرمایا کہ اُس سے خوش نہیں ہوئے ) فرمایا ” ہم تو دونوں کے ثنا خواں ہیں“۔(ہم تو دونوں کی تعریف کرتے ہیں ) ''اصلی بات یہ ہے کہ ہر شخص کے جدا جدا قومی معلوم ہوتے ہیں۔حضرت امام حسن نے پسند نہ کیا کہ مسلمانوں میں خانہ جنگی بڑھے اور خون ہوں۔انہوں نے امن پسندی کو مدنظر رکھا اور حضرت امام حسین نے پسند نہ کیا کہ فاسق فاجر کے ہاتھ