خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 724 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 724

خطبات مسرور جلد دہم 724 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 نومبر 2012ء پھر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں : ”آپ بڑے متقی اور پاک صاف تھے اور اُن لوگوں میں سے تھے جو خدائے رحمان کے سب سے پیارے اور اچھے خاندان والے تھے اور زمانے کے سرداروں میں سے تھے۔غالب خدا کے شیر اور مہر بان خدا کے نوجوان تھے۔بہت سخی اور صاف دل تھے۔آپ وہ منفرد بہادر تھے جو میدانِ حرب میں اپنی جگہ سے نہیں ہٹتے تھے خواہ آپ کے مقابل دشمنوں کی ایک فوج ہی کیوں نہ ہوتی۔آپ نے کسمپرسی کی زندگی بسر کی اور پر ہیز گاری میں اعلیٰ مقام حاصل کیا۔آپ مال و دولت عطا کرنے والے، ہم وغم دور کرنے والے اور یتیموں ،مسکینوں اور پڑوسیوں کی دیکھ بھال کرنے والے پہلے شخص تھے اور مختلف معرکوں میں آپ سے بہادری کے کارنامے ظاہر ہوتے تھے۔(یہ نہیں کہ صرف یہی پہلے شخص تھے مطلب یہ کہ اُن کا بہت اچھا بڑا مقام تھا ” مختلف معرکوں میں آپ سے بہادری کے کارنامے ظاہر ہوتے تھے اور آپ تلوار اور نیزہ کی جنگ میں عجائب باتوں کے مظہر تھے اور اس کے ساتھ ہی آپ شیر میں بیان اور فصیح اللسان تھے۔( یعنی تقریر میں ایسی فصاحت و بلاغت تھی کہ جس کی کوئی مثال عام آدمیوں میں نہیں )۔اور آپ کا کلام دلوں کی تہ تک اتر جاتا تھا۔آپ اپنے کلام کے ذریعہ سے ذہنوں کے زنگ دور کرتے اور اُسے دلیل کے نور سے منور کر دیتے تھے۔آپ ہر قسم کے اسلوب سے واقف تھے اور جو کوئی کسی معاملے میں صاحب فضیلت ہوتا تھا وہ بھی آپ کی طرف مغلوب کی طرح معذرت کرتا ہوا آتا تھا۔آپ ہر خوبی اور فصاحت و بلاغت کے طریقوں میں کامل تھے اور جس نے آپ کے کمال کا انکار کیا تو وہ گویا بے حیائی کے رستے پر چل پڑا۔آپ مجبور کی ہمدردی پر ترغیب دلاتے تھے اور ہر قناعت کرنے والے اور پیچھے پڑ کر مانگنے والے کو کھانا کھلانے کا حکم دیتے تھے۔( یعنی قناعت کرنے والے کا خیال بھی رکھتے تھے، جو نہیں بھی مانگنے والا اور جو مانگنے والا ہے چاہے وہ ضدی مانگنے والا ہی ہواُس کا خیال بھی رکھتے تھے۔) آپ اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں میں سے تھے۔اسی طرح آپ کاسئہ فرقان سے دودھ پینے میں سبقت لے جانے والوں میں سے تھے۔آپ کو قرآنِ کریم کے دقیق نکات کی معرفت کا عجیب فہم حاصل ہوا تھا۔( جو قرآن کریم ہے، اُس کا جو علم ہے وہ علم کا ایک روحانی دودھ ہے، اُس میں آپ بہت بڑا فہم و ادراک رکھنے والے تھے)۔( سر الخلافہ۔روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 359-358) پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جب مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت ہوئی ہے تو اُس وقت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے حضرت علی کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ :