خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 723 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 723

خطبات مسرور جلد دہم 723 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 نومبر 2012ء دوسری یہ حدیث ہے کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا۔تیسری یہ حدیث ہے کہ پہلی امتوں میں محدث ہوتے رہے ہیں اگر اس امت میں کوئی محدث ہے تو وہ عمر ہے۔“ (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 219) پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: عمر رضی اللہ عنہ کو بھی الہام ہوتا تھا۔انہوں نے اپنے تئیں کچھ چیز نہ سمجھا ( الہام ہوتا تھا کہ میں کچھ بن گیا ہوں تو پھر بھی اپنے آپ کو کچھ نہیں سمجھا ) اور امامت حقہ جو آسمان کے خدا نے زمین پر قائم کی تھی، اُس کا شریک بننانہ چاہا۔“ (یعنی کہ جو مقام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کومل گیا تھا، یہ نہیں کہ الہام ہو گیا تو اُن کا شریک بننے لگ گئے بلکہ ادنی چاکر اور غلام اپنے تئیں قرار دیا۔اس لئے خدا کے فضل نے اُن کو نائب امامت حقہ بنا دیا “۔( یعنی خلافت کی خلعت سے نوازا۔) ( ضرورۃ الامام۔روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 473-474) پھر حجۃ اللہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیان فرماتے ہیں۔عربی کا ترجمہ یہ ہے کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمسایہ میں دو ایسے آدمی دفن کئے گئے ہیں جو نیک تھے، پاک تھے، مقرب تھے ، طیب تھے اور خدا نے اُن کو زندگی میں اور بعد مرگ اپنے رسول کے رفقاء ٹھہرایا۔( یعنی وفات کے بعد بھی ساتھ ہی ، قریب ہی دفن ہوئے ) ” پس رفاقت یہی رفاقت ہے جو خیر تک نبھی اور اس کی نظیر کم پاؤ گے۔پس اُن کو مبارک ہو جو اُ نہوں نے اس (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ساتھ زندگی بسر کی اور اس (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے شہر میں اور اس (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جگہ خلیفے مقرر کئے گئے اور اس (صلی اللہ علیہ وسلم) کے کنار روضہ میں دفن کئے گئے اور اس (صلی اللہ علیہ وسلم) کے مزار کے بہشت سے نزدیک کئے گئے اور قیامت کو اس (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ اُٹھیں گے۔(حجتہ اللہ۔روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 183) پھر مستر الخلافہ کا ایک حوالہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں اس کا ترجمہ یہ ہے کہ: ” میرے رب نے مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نیک اور ایمان والے تھے اور اُن لوگوں میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے چن لیا اور اپنی عنایات کے لئے مخصوص کر لیا۔خدا کی قسم اُس نے ابوبکر، عمر اور عثمان ذوالنورین کو اسلام کے دروازے اور خدائی فوج کے ہر اول دستے بنا دیا ہے۔سر الخلافہ۔روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 326-327)