خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 684
خطبات مسرور جلد دہم 684 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 2 نومبر 2012 ء پھر لکھتے ہیں کہ احباب جماعت سے محبت اور ان کی تکلیف کا بہت زیادہ خیال فرماتے تھے۔28 رمئی کے بعد امیر صاحب نے خدام الاحمدیہ راولپنڈی کے ذمہ کافی کام لگائے جن میں کنسٹرکشن اور سکیورٹی کے کام بھی شامل تھے۔ان امور میں بہت زیادہ اخراجات بھی ہوئے لیکن کبھی امیر صاحب نے اس بات کی پرواہ نہ کی۔ایک موقع پر راولپنڈی کے ایک احمدی عہد یدار نے ان خدشات کا اظہار کیا کہ امیر صاحب روپیہ بہت خرچ ہو رہا ہے جس پر امیر صاحب نے کہا کہ ایک احمدی کی جان کے مقابل پر لاکھوں روپیہ بھی کوئی معنے نہیں رکھتا۔اگر کسی احمدی کی جان چلی جائے تو ہم خلیفہ وقت کو کیا جواب دیں گے کہ چند لاکھ روپے کی خاطر ہم نے یہ انتظام نہیں کیا تھا۔راولپنڈی شہر کے حالات کی خرابی کے بعد جب حلقہ جات میں نماز جمعہ کی ادائیگی شروع ہو گئی (وہاں مسجد میں جمعہ کی ادائیگی کی اجازت نہیں ہے تو مختلف حلقوں میں جمعہ پڑھا جاتا ہے۔پنڈی شہر میں بھی کافی ٹینشن ہے۔اللہ تعالیٰ فضل کرے۔اُن کے لئے بھی دعا کریں کہ وہاں بھی حالات ٹھیک ہوں۔پھر کہتے ہیں اس بات کا ان کو بہت شدت کے ساتھ احساس تھا کہ جماعت کے ساتھ رابطہ نہیں ہو رہا۔جماعت ایک جگہ جمع ہو جاتی ہے تو امیر جماعت کو بہر حال ہدایات دینے اور اُن کی رہنمائی کرنے ، اور اُن کی باتیں سنے سمجھنے کا موقع مل جاتا ہے۔لیکن وہاں تو دفتر تک میں بیٹھنے کی اجازت نہیں تھی، ہر چیز سیل (Seale) کر دی گئی تھی۔کہتے ہیں خاکسار کو ہدایت تھی کہ کسی نہ کسی حلقے میں بندوبست کروائیں اور انہیں جمعہ کے لئے لے کر جائیں۔امیر صاحب نے قائد صاحب کو کہا ہوا تھا کہ کیونکہ اب ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے ، اس لیے فضل الرحمن صاحب بطور امیر مختلف جگہوں پر جایا کریں گے تاکہ لوگوں کے ساتھ رابطہ قائم رہے۔کہتے ہیں لیکن میں کوشش کرتا تھا کہ ایسی جگہ نہ لے کر جاؤں جہاں سیڑھیاں چڑھنی پڑھیں کیونکہ اُن کو گھٹنوں کی تکلیف تھی۔ایک بار انہوں نے خود ہی کہا کہ بیت الحمد مری روڈ کا پروگرام بنا ئیں۔اس پر قائد صاحب کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی کہ امیر صاحب وہاں تو بہت سیڑھیاں ہیں اور آپ کو بہت تکلیف ہوگی۔لیکن امیر صاحب نے کہا کہ نہیں، کچھ نہیں ہوتا، دوستوں سے ملے بہت وقت ہو گیا ہے۔پھر مرکزی عہدیداروں کا بھی بڑا احترام تھا۔یہ بھی امراء کو ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ مرکزی عہدیداروں کو عزت و احترام دیں۔گوان کا مطالبہ کوئی نہیں اور نہ کسی مرکزی عہدیدار کے دل میں خیال آنا چاہئے کہ مجھے عزت و احترام ملے۔لیکن جماعتوں کا، افراد کا، جماعتی عہدیداروں کا ، امراء وغیرہ کا کام ہے کہ اس بات کا خیال رکھا کریں۔کہتے ہیں کہ ایک دفعہ صدر صاحب خدام الاحمدیہ پنڈی آئے ہوئے تھے تو انہوں نے کہا کہ میں نے ملاقات کرنی ہے۔صدر صاحب نے کہا